@patchm_: #gummybear #gummies #gummyforkids #chewberry #chewberrygummies

𝓹𝓪𝓽
𝓹𝓪𝓽
Open In TikTok:
Region: PH
Saturday 16 May 2026 08:49:14 GMT
3225
142
33
104

Music

Download

Comments

roylyngdzamlcn
prettypicks•by•rylzn :
yumm
2026-05-25 02:31:40
2
madskie_shop
🧿madskie🧿 :
perfect for kids
2026-05-30 10:37:49
2
marj12074
Ma'am Marj🌸♡ :
matamis po ba msyado?
2026-05-27 04:16:13
1
elentiyas_shop
shesells🐚 :
faveee 😍
2026-06-25 21:04:12
0
aurabeauty.24
Shop by Aura :
Looks yummy 🤤
2026-05-16 12:29:37
1
arc.diary.co
arc :
Yummy😍
2026-05-25 07:49:58
2
ckyleandmommy
Mhiles🎀 :
Sulit andami na
2026-05-16 09:22:29
2
civrammetace
êmmã🫪 :
pahingi
2026-05-28 08:39:02
1
avery_1624
buy_heyaaaa🤑 :
wow
2026-06-15 10:24:49
0
mntn_30
Montana’s Sticker Corner :
Woww yummyyy namann
2026-06-08 12:51:16
0
joan.fajardo123
Joan Fajardo@123 :
sarap nito ..snacks
2026-06-08 03:28:29
0
gnadinn
Dee :
Pengee 😂
2026-05-18 03:02:17
2
jade.le009
Jade Le09 :
Yummy
2026-06-15 11:39:49
0
lorenperez.shop
Loren🌼✨ :
cute gummies
2026-06-12 07:16:31
0
joneeds91
JONEEDS :
msyt try!
2026-06-14 11:44:28
0
roseshop068
prc damian :
wow
2026-06-10 02:37:14
0
zhien231221
Xhen zie :
yummy
2026-05-30 10:49:16
0
ahleinbautista
lia :
sarap nito nakalan bili nako
2026-06-12 13:36:17
0
21amara0418
21amara0418 :
Wow sarap namn nyan🤩🥰
2026-06-05 05:36:11
0
chaelleie
cha ᥫ᭡ :
sarap nito 😍
2026-06-08 00:50:34
0
iskahpade
iskahpade :
Super tamis ba yan?
2026-06-30 03:40:44
0
lala_mo67
yaerie_ :
so sulit ng gummy natoo!
2026-06-06 10:35:54
0
viel.recos
viel :
affordable
2026-06-06 08:34:05
0
julscartph
JulsCart ۶ৎ :
Sarap nito🥰
2026-06-05 07:00:57
0
notyogurttt
GWEN :
sulit na Ang muraaa
2026-06-01 06:31:41
0
To see more videos from user @patchm_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نیا قانون یا شہری آزادیوں کے لیے نیا چیلنج؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کو غنڈہ گردی، بھتہ خوری، لینڈ مافیا، منظم جرائم، منشیات اور سائبر کرائم کے خلاف مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام ہے، لیکن یہ مقصد آئین، بنیادی حقوق اور قانون کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026 بظاہر جرائم کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، مگر اس کی بعض شقیں سنگین قانونی اور آئینی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ اس بل کے مطابق کسی شخص کو عدالت سے سزا یافتہ ہوئے بغیر بھی “عادی مجرم” قرار دیا جا سکتا ہے، اگر اس کے خلاف ایک سے زائد مقدمات درج ہوں یا انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر اسے سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث تصور کیا جائے۔ یہ اصول فوجداری انصاف کے اس بنیادی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا کہ ہر شخص اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک جرم عدالت میں ثابت نہ ہو جائے۔ اسی طرح شناختی کارڈ، پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹس، اسلحہ لائسنس، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جائیداد، الیکٹرانک نگرانی (GPS)، بائیومیٹرک اور DNA ریکارڈ جیسے اقدامات انتہائی غیر معمولی اختیارات ہیں۔ ایسے اختیارات صرف مضبوط عدالتی نگرانی، شفاف طریقہ کار اور مؤثر قانونی تحفظات کے ساتھ ہی استعمال ہونے چاہییں، بصورت دیگر ان کے غلط استعمال کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اس بل میں انٹیلی جنس کمیٹیوں کو اہم کردار دیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس معلومات یقیناً تفتیش میں معاون ہو سکتی ہیں، لیکن کسی شہری کے بنیادی حقوق پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں کی بنیاد ہمیشہ آزاد عدلیہ اور قابلِ قبول عدالتی شہادت ہونی چاہیے، نہ کہ صرف انتظامی یا انٹیلی جنس سفارشات۔ تمام جرائم کو Cognizable اور Non-Bailable قرار دینا بھی ایک ایسا پہلو ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ ضمانت کا فیصلہ ہر مقدمے کے حقائق، شواہد اور جرم کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے، نہ کہ ایک عمومی اصول کے تحت۔ اگر اس قانون میں واضح حفاظتی اقدامات شامل نہ کیے گئے تو خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ان اختیارات کو سیاسی مخالفین، صحافیوں، وکلاء، سماجی کارکنوں یا عام شہریوں کے خلاف بھی استعمال کیا جائے۔ قانون سازی ہمیشہ بدترین ممکنہ غلط استعمال کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے، نہ کہ صرف بہترین نیت کو۔ جرائم کے خلاف سخت قانون وقت کی ضرورت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہر قانون آئین، بنیادی انسانی حقوق، عدالتی نگرانی اور Rule of Law کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو جرم کے خلاف بھی مؤثر ہو اور شہری آزادیوں کی محافظ بھی۔ قانون سخت ضرور ہونا چاہیے، مگر انصاف، آئین اور بنیادی حقوق سے زیادہ سخت کبھی نہیں۔ #teammianasif #secretaryhighcourtbar #SHCBA #CMpunjabofficial #blackjustice
نیا قانون یا شہری آزادیوں کے لیے نیا چیلنج؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کو غنڈہ گردی، بھتہ خوری، لینڈ مافیا، منظم جرائم، منشیات اور سائبر کرائم کے خلاف مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور امن و امان کا قیام ہے، لیکن یہ مقصد آئین، بنیادی حقوق اور قانون کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026 بظاہر جرائم کی روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، مگر اس کی بعض شقیں سنگین قانونی اور آئینی سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ اس بل کے مطابق کسی شخص کو عدالت سے سزا یافتہ ہوئے بغیر بھی “عادی مجرم” قرار دیا جا سکتا ہے، اگر اس کے خلاف ایک سے زائد مقدمات درج ہوں یا انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر اسے سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث تصور کیا جائے۔ یہ اصول فوجداری انصاف کے اس بنیادی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا کہ ہر شخص اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک جرم عدالت میں ثابت نہ ہو جائے۔ اسی طرح شناختی کارڈ، پاسپورٹ، بینک اکاؤنٹس، اسلحہ لائسنس، سوشل میڈیا اکاؤنٹس، جائیداد، الیکٹرانک نگرانی (GPS)، بائیومیٹرک اور DNA ریکارڈ جیسے اقدامات انتہائی غیر معمولی اختیارات ہیں۔ ایسے اختیارات صرف مضبوط عدالتی نگرانی، شفاف طریقہ کار اور مؤثر قانونی تحفظات کے ساتھ ہی استعمال ہونے چاہییں، بصورت دیگر ان کے غلط استعمال کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اس بل میں انٹیلی جنس کمیٹیوں کو اہم کردار دیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس معلومات یقیناً تفتیش میں معاون ہو سکتی ہیں، لیکن کسی شہری کے بنیادی حقوق پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں کی بنیاد ہمیشہ آزاد عدلیہ اور قابلِ قبول عدالتی شہادت ہونی چاہیے، نہ کہ صرف انتظامی یا انٹیلی جنس سفارشات۔ تمام جرائم کو Cognizable اور Non-Bailable قرار دینا بھی ایک ایسا پہلو ہے جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ ضمانت کا فیصلہ ہر مقدمے کے حقائق، شواہد اور جرم کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے، نہ کہ ایک عمومی اصول کے تحت۔ اگر اس قانون میں واضح حفاظتی اقدامات شامل نہ کیے گئے تو خدشہ پیدا ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ان اختیارات کو سیاسی مخالفین، صحافیوں، وکلاء، سماجی کارکنوں یا عام شہریوں کے خلاف بھی استعمال کیا جائے۔ قانون سازی ہمیشہ بدترین ممکنہ غلط استعمال کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے، نہ کہ صرف بہترین نیت کو۔ جرائم کے خلاف سخت قانون وقت کی ضرورت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہر قانون آئین، بنیادی انسانی حقوق، عدالتی نگرانی اور Rule of Law کے اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو جرم کے خلاف بھی مؤثر ہو اور شہری آزادیوں کی محافظ بھی۔ قانون سخت ضرور ہونا چاہیے، مگر انصاف، آئین اور بنیادی حقوق سے زیادہ سخت کبھی نہیں۔ #teammianasif #secretaryhighcourtbar #SHCBA #CMpunjabofficial #blackjustice

About