@naqsh_e_aslaf_official: حضرت مولانا مفتی سردار علی حقانی شہیدؒ 💔 وہ چمکتا ہوا سورج جو وقت سے پہلے غروب ہو گیا. حق گوئی کا وہ بے باک پودا جس کی گونج پورے ملک میں سنی گئی، اس کا خمیر ضلع صوابی کے خوبصورت گاؤں "مینی" کی مٹی سے اٹھا تھا۔ آپ 1970ء میں صوابی میں پیدا ہوئے اور بعد میں نوشہرہ کو اپنا مسکن بنایا۔ علمِ دین کی طلب انہیں چارسدہ لے گئی، جہاں انہوں نے جامعہ محمدیہ مٹہ مغل خیل سے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا۔ علم کی پیاس ابھی باقی تھی، چنانچہ وہ برصغیر کے عظیم دینی مرکز دارالعلوم حقانیہ پہنچے۔ وہاں راتوں کو جاگ کر، کتابوں سے دل لگا کر انہوں نے دورۂ حدیث مکمل کیا اور افتاء (مفتی) کی عظیم سند حاصل کی ۔افسوس! جس خطیب کی آواز سن کر مجمع وجد میں آ جاتا تھا، 7 مئی 2022ء کی شام کوہاٹ ہائی وے پر آنے والے ایک بے رحم حادثے نے اس آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔ وہ اچانک یوں رخصت ہوئے کہ چاہنے والوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔ وہ چلے گئے، مگر اپنے پیچھے سسکتے ہوئے لاکھوں دل اور روتی ہوئی آنکھیں چھوڑ گئے۔ آج بھی جب ان کا کوئی پرانا بیان کانوں میں پڑتا ہے، تو دل تڑپ اٹھتا ہے اور یقین نہیں آتا کہ اسٹیج کی رونق بڑھانے والا وہ چہرہ اب مٹی تلے جا سویا ہے۔ ان کا منفرد انداز، وہ بے باکی، وہ لہجہ اب کبھی دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا اے اللہ! ہمارے اس بیباک مفتی کی لغزشوں کو معاف فرما، ان کی شہادت کو قبول کر کے جنت الفردوس میں آقا کریم ﷺ کا پڑوس نصیب فرما۔ (آمین)