@kuwaitn5: #kuwait🇰🇼city

Rohit_Kuwait 🇰🇼
Rohit_Kuwait 🇰🇼
Open In TikTok:
Region: KW
Saturday 16 May 2026 14:24:02 GMT
33694
1981
35
131

Music

Download

Comments

shahmeerkhan551
Shahmeer khan :
plz me help
2026-06-07 17:01:37
4
excavator.operato6888
हरिकृष्ण बस्नेत धादिङ नेपाल :
I love Kuwait
2026-05-22 17:43:21
11
shehanmadushan79
Deepikashehan :
❤️❤️❤️❤️Love you Kuwait 🇰🇼 ❤️❤️❤️❤️
2026-05-17 08:45:25
19
beauty_tips_by_asha24
Beauty tips by Asha :
K P C T bus
2026-05-24 15:06:25
11
khanggoye
AFif khan :
please help. me
2026-05-17 06:07:30
9
baloch9471
Baloch :
I love Kuwait
2026-06-10 12:50:27
2
godfirstucheb
Garce Charlie :
hi 💕🥰
2026-05-27 06:45:57
8
baby.dear57
Baby dear :
Hello I need a serious relationship from Kuwait
2026-05-19 21:26:19
13
oakjweuibb4
lacey ❤️ :
🥰🥰💆‍♂️💆‍♂️
2026-05-20 04:19:42
13
rao.iftikhar.official.96
Rao.Iftikhar.Official.96 :
🥰🥰🥰
2026-05-21 19:57:30
10
userge5p3s436u
Saman avilebal :
🥰🥰🥰
2026-05-17 10:22:10
17
iqbal.gill52
Iqbal jutt Gill :
🌹🌹🌹
2026-05-18 13:06:01
18
cutelisa147
Lisa 🥰 :
🥰🫂💆
2026-05-20 14:45:34
9
saifulislammamun26
Saiful Islam Mamun :
🥰🥰🥰
2026-05-17 14:26:23
16
user2790760047912
💕Rose💕 :
🌷🌷🥰
2026-05-17 15:28:04
16
zainabbasi154
✨Z@îñ🥀Äbb@𝑆̮̑i✨ :
❤️❤️❤️
2026-05-21 11:50:22
8
chaminda.rajapaks06
Chaminda rajapaksha :
🥰🥰🥰🥰
2026-05-18 15:36:01
14
kuwait.king31
Kuwait king🤖🇰🇼 🇮🇳 :
🥰🥰🥰😁😁😁
2026-05-18 05:50:39
19
shehzadpagel
🇰🇼 🫴🏻𝐌🫀🇵🇰 :
♥️♥️♥️
2026-05-20 15:58:32
8
sudumahaththaya1169
sudumahaththaya :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-05-18 05:22:12
15
sexandmassage252
sexandmassage :
❤️❤️
2026-05-20 20:35:40
6
april.stewart34
April 904 girl👻 :
🧡🧡🧡🧡
2026-05-16 23:00:37
10
arojbrotherdress
Aroj Bridel Shop👗 :
🥰🥰🥰
2026-06-07 18:50:35
2
rafikulislam8829
rafikulislam8829 :
😃😄😁
2026-06-05 10:33:30
4
To see more videos from user @kuwaitn5, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔ مگر ایک بار پھر دشمن کو وہ نتائج نہ مل سکے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرحدی آمدورفت کو مکمل طور پر سیل کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پورے کھیل کا رخ موڑ دیا۔ یہ فیصلہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ اسٹریٹجک معیشت کا بھی تھا۔ افغانستان پر دباؤ بڑھا، دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی، اور پیغام واضح ہو گیا کہ پاکستان اب یکطرفہ رعایتیں دینے کو تیار نہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عالمی اسکرپٹ ایک بار پھر دراڑوں کا شکار ہوا۔ اور یہ دراڑیں آگے چل کر ایک بہت بڑے انکشاف اور بڑی صف بندی کا پیش خیمہ بنیں—جس کا تعلق صرف افغانستان یا بھارت سے نہیں بلکہ پورے خطے، خصوصاً ایران سے جا ملتا ہے۔ جب افغانستان کے محاذ پر طے شدہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بھارت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ناکام ہو گئی، تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نظریں فطری طور پر ایک اور اہم مہرے پر جا ٹھہریں—ایران۔ ایران محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کا ایک کلیدی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو کمزور کیے بغیر نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں مکمل بالادستی ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کو گھیرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سیدھے سادے نہیں رہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے شواہد ملتے ہیں کہ ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ استعمال ہونے دیا گیا۔ بعض علیحدگی پسند عناصر کو پناہ، بعض کو خاموش سہولت، اور بعض کو نظر انداز کیا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی یہ ادراک ہو گیا کہ پاکستان سے محاذ آرائی دراصل اپنے ہی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک عملی حقیقت پسندی نے جنم لیا۔ پاکستان نے اس مرحلے پر جذباتی ردِعمل کے بجائے اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا۔ سفارتی چینلز کو فعال رکھا گیا، عسکری سطح پر واضح پیغامات دیے گئے، اور سب سے بڑھ کر یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین یا اپنے پڑوس کو کسی بھی صورت دشمن کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کی موجودہ قیادت نے، کم از کم عملی سطح پر، اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی اخلاقی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص قومی مفاد کا تقاضا تھا۔ مگر یہی حقیقت عالمی طاقتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ ایران اگر پاکستان کے ساتھ ایک توازن میں آ جاتا ہے تو پورے خطے میں طاقت کا وہ خلا پیدا نہیں ہوتا جس کا فائدہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ معاشی پابندیاں، کرنسی کا بحران، عوامی مشکلات، اور پھر ان مسائل کو سڑکوں پر احتجاج میں تبدیل کرنا—یہ سب ایک آزمودہ ماڈل ہے، جو اس سے پہلے شام، لیبیا اور یوکرین جیسے ممالک میں دیکھا جا چکا ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کو اگر محض عوامی غصے کا اظہار سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایک واضح رجیم چینج ایجنڈا کارفرما ہے۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار، اور وہی پرانی فنڈنگ لائنز۔ مقصد صرف حکومت پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ موجودہ ایرانی نظام کو مکمل طور پر بدل دینا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ایک ایسی قیادت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسرائیل اور مغربی مفادات کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہو—جیسے رضا شاہ پہلوی۔ امریکہ اور اسرائیل اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کی علاقائی خودمختاری، اور اس کا مزاحمتی بیانیہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن اس ساری تصویر میں ایک پہلو ایسا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: اگر ایران گرتا ہے تو اگلا دباؤ براہِ راست پاکستان پر آئے گا۔ پاکستان اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ایران کے معاملے کو محض ایک ہمسایہ ملک کا داخلی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑے علاقائی شطرنج کا حصہ سمجھتا ہے۔ بھارت مشرق سے، افغانستان مغرب سے، اور اگر ایران کمزور ہوا تو جنوب مغرب سے—یہ ایک مکمل گھیراؤ ہوگا۔ اور اس گھیراؤ کا اصل ہدف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے۔ جاری ہے... #foryo #fyppp #fypシ #foru #trending
یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔ مگر ایک بار پھر دشمن کو وہ نتائج نہ مل سکے جن کی امید کی جا رہی تھی۔ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرحدی آمدورفت کو مکمل طور پر سیل کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے پورے کھیل کا رخ موڑ دیا۔ یہ فیصلہ محض سیکیورٹی نہیں بلکہ اسٹریٹجک معیشت کا بھی تھا۔ افغانستان پر دباؤ بڑھا، دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی، اور پیغام واضح ہو گیا کہ پاکستان اب یکطرفہ رعایتیں دینے کو تیار نہیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عالمی اسکرپٹ ایک بار پھر دراڑوں کا شکار ہوا۔ اور یہ دراڑیں آگے چل کر ایک بہت بڑے انکشاف اور بڑی صف بندی کا پیش خیمہ بنیں—جس کا تعلق صرف افغانستان یا بھارت سے نہیں بلکہ پورے خطے، خصوصاً ایران سے جا ملتا ہے۔ جب افغانستان کے محاذ پر طے شدہ نتائج حاصل نہ ہو سکے اور بھارت کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی ناکام ہو گئی، تو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی نظریں فطری طور پر ایک اور اہم مہرے پر جا ٹھہریں—ایران۔ ایران محض ایک ہمسایہ ملک نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کا ایک کلیدی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو کمزور کیے بغیر نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں مکمل بالادستی ممکن ہے اور نہ ہی پاکستان کو گھیرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سیدھے سادے نہیں رہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایسے شواہد ملتے ہیں کہ ایرانی سرزمین کو پاکستان کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ استعمال ہونے دیا گیا۔ بعض علیحدگی پسند عناصر کو پناہ، بعض کو خاموش سہولت، اور بعض کو نظر انداز کیا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی یہ ادراک ہو گیا کہ پاکستان سے محاذ آرائی دراصل اپنے ہی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک عملی حقیقت پسندی نے جنم لیا۔ پاکستان نے اس مرحلے پر جذباتی ردِعمل کے بجائے اسٹریٹجک صبر کا مظاہرہ کیا۔ سفارتی چینلز کو فعال رکھا گیا، عسکری سطح پر واضح پیغامات دیے گئے، اور سب سے بڑھ کر یہ باور کرایا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین یا اپنے پڑوس کو کسی بھی صورت دشمن کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کی موجودہ قیادت نے، کم از کم عملی سطح پر، اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی اخلاقی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ خالص قومی مفاد کا تقاضا تھا۔ مگر یہی حقیقت عالمی طاقتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ ایران اگر پاکستان کے ساتھ ایک توازن میں آ جاتا ہے تو پورے خطے میں طاقت کا وہ خلا پیدا نہیں ہوتا جس کا فائدہ اسرائیل اور اس کے اتحادی اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ معاشی پابندیاں، کرنسی کا بحران، عوامی مشکلات، اور پھر ان مسائل کو سڑکوں پر احتجاج میں تبدیل کرنا—یہ سب ایک آزمودہ ماڈل ہے، جو اس سے پہلے شام، لیبیا اور یوکرین جیسے ممالک میں دیکھا جا چکا ہے۔ ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کو اگر محض عوامی غصے کا اظہار سمجھا جائے تو یہ ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے ایک واضح رجیم چینج ایجنڈا کارفرما ہے۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار، اور وہی پرانی فنڈنگ لائنز۔ مقصد صرف حکومت پر دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ موجودہ ایرانی نظام کو مکمل طور پر بدل دینا ہے۔ اس تبدیلی کے بعد ایک ایسی قیادت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اسرائیل اور مغربی مفادات کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہو—جیسے رضا شاہ پہلوی۔ امریکہ اور اسرائیل اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کا ایٹمی پروگرام، اس کی علاقائی خودمختاری، اور اس کا مزاحمتی بیانیہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن اس ساری تصویر میں ایک پہلو ایسا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: اگر ایران گرتا ہے تو اگلا دباؤ براہِ راست پاکستان پر آئے گا۔ پاکستان اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ایران کے معاملے کو محض ایک ہمسایہ ملک کا داخلی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑے علاقائی شطرنج کا حصہ سمجھتا ہے۔ بھارت مشرق سے، افغانستان مغرب سے، اور اگر ایران کمزور ہوا تو جنوب مغرب سے—یہ ایک مکمل گھیراؤ ہوگا۔ اور اس گھیراؤ کا اصل ہدف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے۔ جاری ہے... #foryo #fyppp #fypシ #foru #trending

About