@zara.blonde.xo: Rate this outfit #bikini #milkcannons #blonde #blondegirl #baddie

Zara Blonde
Zara Blonde
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 16 May 2026 15:54:10 GMT
2307
72
1
1

Music

Download

Comments

kamalyasen408
kamalyasen408 :
🥰🥰🥰
2026-05-18 12:19:17
1
To see more videos from user @zara.blonde.xo, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل میں چلا جاتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ میرے پیچھے شیر چلا آ رہا ہے۔ وہ بھاگتا ہوا جب تھک جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ آگے ایک گڑھا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ گڑھے میں گر کر جان بچائے، لیکن گڑھے میں ایک اژدھا نظر آ جاتا ہے۔ اتنے میں اس کی ایک درخت کی ٹہنی پر نظر پڑتی ہے، وہ اسے پکڑ کر درخت پر چڑھ جاتا ہے، مگر درخت پر چڑھنے کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ درخت کی جڑ کو دو سیاہ اور سفید چوہے کاٹ رہے ہیں۔ وہ بہت پریشان ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر میں درخت جڑ سے کٹ جائے گا تو میں گر جاؤں گا، اور پھر شیر اور اژدھے کا لقمہ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ اتفاقاً اس کو اوپر کی جانب شہد کا ایک چھتا نظر آتا ہے۔ وہ اس شہد شیریں کو پینے اور حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ نہ شیر کا ڈر رہتا ہے، نہ اژدھے کا خوف اور نہ چوہوں کا غم۔ اتنے میں دفعتاً درخت کی جڑ کٹ جاتی ہے اور وہ گر پڑتا ہے۔ شیر نے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور وہ اژدھے کے منہ میں جا پہنچا۔ مولانا روم نے اس مثال کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ جنگل سے مراد یہ دنیا ہے، شیر موت ہے جو پیچھے لگی ہوئی ہے، گڑھا قبر ہے جو انسان کے آگے ہے، اور اژدھا اعمال ہیں جو قبر میں ڈسیں گے۔ چوہے دن اور رات ہیں، درخت عمر ہے، اور شہد کا چھتا دنیا کی فانی اور غافل کر دینے والی لذت ہے کہ انسان دنیا کی فکر میں موت اور اعمال کی جواب دہی وغیرہ سب کچھ بھول جاتا ہے، اور پھر اچانک اسے موت آ جاتی ہے۔
دنیا کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص جنگل میں چلا جاتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ میرے پیچھے شیر چلا آ رہا ہے۔ وہ بھاگتا ہوا جب تھک جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ آگے ایک گڑھا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ گڑھے میں گر کر جان بچائے، لیکن گڑھے میں ایک اژدھا نظر آ جاتا ہے۔ اتنے میں اس کی ایک درخت کی ٹہنی پر نظر پڑتی ہے، وہ اسے پکڑ کر درخت پر چڑھ جاتا ہے، مگر درخت پر چڑھنے کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ درخت کی جڑ کو دو سیاہ اور سفید چوہے کاٹ رہے ہیں۔ وہ بہت پریشان ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر میں درخت جڑ سے کٹ جائے گا تو میں گر جاؤں گا، اور پھر شیر اور اژدھے کا لقمہ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ اتفاقاً اس کو اوپر کی جانب شہد کا ایک چھتا نظر آتا ہے۔ وہ اس شہد شیریں کو پینے اور حاصل کرنے میں اتنا مشغول ہو جاتا ہے کہ نہ شیر کا ڈر رہتا ہے، نہ اژدھے کا خوف اور نہ چوہوں کا غم۔ اتنے میں دفعتاً درخت کی جڑ کٹ جاتی ہے اور وہ گر پڑتا ہے۔ شیر نے چیر پھاڑ کر گڑھے میں گرا دیا اور وہ اژدھے کے منہ میں جا پہنچا۔ مولانا روم نے اس مثال کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ جنگل سے مراد یہ دنیا ہے، شیر موت ہے جو پیچھے لگی ہوئی ہے، گڑھا قبر ہے جو انسان کے آگے ہے، اور اژدھا اعمال ہیں جو قبر میں ڈسیں گے۔ چوہے دن اور رات ہیں، درخت عمر ہے، اور شہد کا چھتا دنیا کی فانی اور غافل کر دینے والی لذت ہے کہ انسان دنیا کی فکر میں موت اور اعمال کی جواب دہی وغیرہ سب کچھ بھول جاتا ہے، اور پھر اچانک اسے موت آ جاتی ہے۔

About