@neiynkhan: وہ تو ماں تھی جس نے بے روزگار ہونے پر کبھی کھانا پینا کم نہیں کیا تھا بے روزگار بیٹے کو کبھی طعنے نہیں دیے بلکہ کھانا آگے رکھ کر کہتی کوئی بات نہیں بیٹا وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا کپڑے میلے ہونے پر دوسرا صاف کپڑا نکال کر دے دیا گھر دیر سے آنے پر جاگ کر انتظار کیا دروازے پر بیٹھی راستہ دیکھتی رہی کھانے کو سنبھال کر رکھا کبھی یہ نہیں پوچھا کہ پیسے کیوں نہیں لائے مایوس ہونے پر تسلی دی اور جب جیب خالی ہوئی تو اپنی جمع پونجی سے مدد کی اپنے ضعیف ہاتھوں سے بال سنوارے اپنے کمزور ہاتھوں سے کپڑے دھوئے اپنی کمزور آنکہوں سے ہمیشہ اس نے مجبوریوں کو پڑھ لیا سب ماں جیسے نہیں یہ دنیا ہے یہ آپ کی شکل و صورت کے ساتھ آپ کا بینک بیلنس آپ کی گاڑی آپ کی اوقات آپ کا گھر دیکہتی ہے اس کو آپ کی معصومیت سے کوٸی فرق نہیں پڑتا آپ کس حال میں ہیں کیسے ہیں زندگی کیسے بسر کر رہے ہیں جی بہی رہیں ہے یا نہیں کوٸی محسوس نہیں کرے گا آپ نے کہانا کایا نہیں کہایا گھر لیٹ سے کیوں آۓ اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو کب تک واپس آٸو گے یا آٸو گے بہی یا نہیں ۔اس سے کسی کو کوٸی خاص فرق نہیں سب رشتے ناتے مطلب تک مشتمل ہیں جہاں مطلب پورا ہوا وہ تمہیں دفنانے سے بہی انکار کر دیں گے اور ایسے لاتعلقی کا اظہار کریں گے جیسے تم اس دنیا کا کوٸی حصہ ہی نہیں تھے