@.its.sarii_: asi nomas 😛 #paratii #mariaelena #loscaminantes

.its.sarii_
.its.sarii_
Open In TikTok:
Region: GB
Sunday 17 May 2026 03:13:08 GMT
786713
120825
285
14683

Music

Download

Comments

brielle_8721
Brielle_8 :
My mom would always play this song drunk 😅 🤍🤍🤍🥲 she’s very much missed. 🪽
2026-06-30 05:25:04
2
roblero_nolvi
Nolvi💋 :
Mé recordó a mi hermano la escuchaba, pero ahora ya no esta con nosotr@s de hace 6 años 😭🕊️💔
2026-06-21 15:45:42
401
gabriela.cruz.hol
🖤gabby 🖤 :
esa canción me recuerda ami abuelita 🥹, cuando la sepultamos le pusimos esa canción ya qué ella se llamaba así 🥹🥹
2026-06-22 05:18:21
79
ingridramirez3668
Ingridramirez366 :
yooo 🤣
2026-06-21 17:29:48
25
luiecuc
luiecuc :
2026-06-22 13:07:57
12
juan.xol65
Juan Xol :
que pueden decir o pensar si es musicón😁
2026-06-23 00:55:38
5
To see more videos from user @.its.sarii_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج کل کے والدین اپنے بچوں سے 25 سال کی عمر میں ایک مکمل، مستحکم اور کامیاب انسان بننے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مطالبے کی قیمت بچہ اپنی ذہنی ساکھ اور روح گنوا کر چکا رہا ہے۔ جب ایک نوجوان کو اپنے ہی گھر میں محبت اور عزت مشروط (conditional) ملنے لگے—کہ اگر کماؤ گے تو عزت ہوگی، اگر سیٹل ہو گے تو فخر کیا جائے گا—تو اس کے اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔ گھر، جو دنیا کی تلخیوں سے بچنے کا آخری قلعہ ہونا چاہیے تھا، جب وہی ایک ایسی عدالت بن جائے جہاں ہر روز بچے کی صلاحیتوں کا ٹرائل ہو، تو نوجوان اندر سے بالکل بانجھ اور اکیلا ہو جاتا ہے۔  یہ مسلسل موازنہ اور نااہلی کا احساس آہستہ آہستہ شدید اینگزائٹی اور گہرے ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہر وقت ایک ایسے ان دیکھے ملبے تلے دبا رہتا ہے جسے وہ ہٹا نہیں پاتا۔ جب دن رات کی محنت کے باوجود وہ والدین کے طے کردہ اس معیار کو نہیں چھو پاتا جو انہوں نے خود 40 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا، تو اس کے اندر یہ زہریلا یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ
آج کل کے والدین اپنے بچوں سے 25 سال کی عمر میں ایک مکمل، مستحکم اور کامیاب انسان بننے کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مطالبے کی قیمت بچہ اپنی ذہنی ساکھ اور روح گنوا کر چکا رہا ہے۔ جب ایک نوجوان کو اپنے ہی گھر میں محبت اور عزت مشروط (conditional) ملنے لگے—کہ اگر کماؤ گے تو عزت ہوگی، اگر سیٹل ہو گے تو فخر کیا جائے گا—تو اس کے اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔ گھر، جو دنیا کی تلخیوں سے بچنے کا آخری قلعہ ہونا چاہیے تھا، جب وہی ایک ایسی عدالت بن جائے جہاں ہر روز بچے کی صلاحیتوں کا ٹرائل ہو، تو نوجوان اندر سے بالکل بانجھ اور اکیلا ہو جاتا ہے۔ یہ مسلسل موازنہ اور نااہلی کا احساس آہستہ آہستہ شدید اینگزائٹی اور گہرے ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ہر وقت ایک ایسے ان دیکھے ملبے تلے دبا رہتا ہے جسے وہ ہٹا نہیں پاتا۔ جب دن رات کی محنت کے باوجود وہ والدین کے طے کردہ اس معیار کو نہیں چھو پاتا جو انہوں نے خود 40 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا، تو اس کے اندر یہ زہریلا یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ "میں ایک بوجھ ہوں"۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں انسانی نفسیات ہار مان جاتی ہے۔ جب چاروں طرف اندھیرا ہو، گھر میں بھی اور باہر بھی، اور ہر رشتہ صرف کارکردگی مانگ رہا ہو، تو نوجوان اس روز روز کی ذلت، مایوسی اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ سے فرار پانے کے لیے اپنی زندگی ہی ختم کرنے جیسا انتہائی اور لرزہ خیز قدم اٹھا لیتا ہے۔ یہ خودکشی صرف ایک جان کا جانا نہیں ہے، یہ معاشرے اور والدین کے اس رویے کا قتلِ عمد ہے جو ایک جیتے جاگتے وجود کو جیتے جی ایک لاش میں تبدیل کر دیتا ہے۔@احمد⚜️

About