@__kobrrra__: Ну это просто шедевральная рисовка😻 #шутипринцесса #принцессаишут #шутикоролева #королеваишут #❤️

kobrrra
kobrrra
Open In TikTok:
Region: DE
Sunday 17 May 2026 06:05:44 GMT
281775
20777
246
2853

Music

Download

Comments

bigmak1933
бигмак :
2026-05-28 20:00:31
1777
oth1m.kk
ꪻꪜꪮú ꪮꪻᥴꫝꪊꪑ ᗦ↞◃ :
2026-05-29 13:38:42
514
tanya.morgan23
Tanya Morgan :
Stop doing ai the artist does not want ai used for her drawing
2026-06-07 23:04:26
0
i_lovekfc0
⦻ :
оценка
2026-05-28 21:22:57
163
popalol616
⁴⁵трактор⁹² :
2026-05-28 20:50:25
562
potato.bun83
StillAPotato :
Ok but who’s gunna be my jester 💔🥲
2026-06-03 18:21:28
2
artpa_d
Numii :
2026-05-31 17:08:19
45
uravrageweirdo
uravrageweirdo :
No because why is this comment section funny asf 💔
2026-06-08 00:58:00
0
berry_girl070
Berri_girl :
Это по книге какой-то?
2026-05-20 05:36:22
49
jelevpakete
JellyErri :
ХПХАХАХАХХПХПХХПХПХП ЧТО ЭТО
2026-05-28 18:10:22
72
lirika_tabletka
•𝓤𝓷𝓸• :
2026-05-30 04:13:18
14
suvorova_miroslava
мирочка :
ну так намного лучше
2026-06-02 16:05:16
14
ayullaanasyr
А/С :
по ним должна выйти книга):3
2026-05-28 05:01:32
7
yoyle39
yoyle :
Я ЩАС ОБОССУСЬ, ПОЧЕМУ ЕТО ТАК РЖАЧНО
2026-05-28 19:19:35
205
milkk_444
☆💧baby mom🪽☆ :
это так идеально, почему нет хорошего актива!
2026-05-26 04:43:33
231
mslewisss
ms. Lewis. :
мне нужен бот шута в c.ai. 🛐
2026-05-25 19:14:11
23
immellyaa10
ełya.🧣 :
они мне напоминают честера и мэнли
2026-05-23 14:17:21
279
rainbow_rain06
ʀⲁⲓⲛ...🐾 :
Фе, почему всем нравится..
2026-05-27 07:33:42
522
dak_makdak
Деменция :
Короче
2026-05-31 08:49:30
6
nessa.jr0
NESSA Jr :
I’m crine it’s not even a jester anymore just a handsome guy with a hat on💔
2026-05-30 18:10:49
33
seryozha53711b
New toy :
кто-то воплотил мои мысли?
2026-05-26 08:07:44
14
scarlettcheergurl0
Scarlett 💕🩰🎀💖 :
You gonna give credits to the original creator l have seen the original creator
2026-05-28 18:29:26
45
metlari
Метла :
ПРОШУ ВАС СДЕЛАЙТЕ В c.ai МОЛЮ
2026-05-26 09:59:43
5
To see more videos from user @__kobrrra__, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جب خضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف چھ برس کی ہوگی تو آپ علیہ السلام کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا انتکال ہو گیا حضرت بی بی آمنہ کی وفات کے بعد  حضرت ام ایمن آپ مکہ مکرمہ لائیں اور دادا نے آپ کو اپنے آغوش تربیت میں انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ پر ورش کیا اور حضرت ام ایمن  آپ کی خدمت کرتی رہیں جب عبدالمطلب اپنے ننھے پوتے کو لے کر مکہ پہچے تو ان کے دل میں عجیب کیفیت تھی یہ صرف محبت نہیں تھی یہ ایک یتیم پوتے کے لیے بے مثال شفقت تھی ان کا دل اس بچے کے لیے دھڑکتا تھا جس نے بہت کم عمر میں جدائی کا درد سہ لیا تھا دن گزر تے گئے اور یہ محبت اور بھی گہری ہوتی گئ خانہ کعبہ کے ساے میں عبدالمطلب کے لیے خاص فرش بچھایا جاتا ان کے بیٹے ادب سے اس فرش کے ارد گرد بیٹتے کسی کو ہمت نہ ہوتی کہ اس جگہ پر بیٹھے جہاں عبدالمطلب بیٹھتے تھے مگر ایک ننھا بچہ بے خوف ہے جھجک آتا اور سیدھا ایسی فرش پر جا بیٹھتا یہ کوئی عام بچہ نہیں تھا جب چچا اس ہٹانے کی کوشش کر تے تو عبدالمطلب فوراً فرماتے میرے اسے بیٹے کو چھو ڑ دو خدا کی قسم آقا کی شان نرالی ہے پھر وہ اسے اپنے پاس بٹھا لیتے ابھی اس ننھے بچے کی عمر صرف آٹھ سال دو مہینے اور دس دن ہی ہویا تھی کہ ایک اور سایہ اٹھ گیا دادا عبدالمطلب بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے مکہ کی سر زمین پر وہ عظیم بستی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گی اور یو ننھا دل ایک بار پھر تہنا ہو گیا مگر جانے سے پہلے عبدالمطلب نے ایک اہم فیصلہ کیا انہوں نے اپنے بیٹے اور اس بچے کی چچا ابو طالب کو بلایا اور انہیں وصیت کی کہ اس امانت کا خیال رکھنا یہ صرف ایک بچہ نہیں یہ ایک خاص ذمہ داری ہے پھر کہا تھا ابو طالب نے اس ذمہ داری کو صرف نبھا یا ہی نہیں بلکہ اسے محبت میں بدل دیا انہوں نے اپنے بھتیجے کو اپنی اولاد میں شامل کیا بلکہ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر چاہا ہر لمحہ ہر حال میں ان کا ساتھ دیا سختیوں میں ڈھال بنے مشکلات میں سایہ بنے چالیس سال سے بھی زیادہ عرصے تک انہوں نے حفاظت مصبت اور حمایت کا حق ادا کیا ان کی دوستی بھی اسی بنیاد پر تھی اور دشمنی بھی یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ کی زمین قید سے تب رہی تھی آسمان صاف تھا بادل کا نام نشان نہ تھا اور لوگ بے بسی کے عالم میں تھے ہر طرف فاقہ ہر طرف پر پیشانی تب قریش نے کہا ابو طالب یہ وادی قید کا شکار ہو گی ہے ہماری اولاد بھوک سے تلپ رہی ہے آئیس بارش کی دعا کریں یہ سن کر ابوطالب ایک بچے کو ساتھ لے کر باہر آے وہ کوئی عام بچہ نہیں تھا ایسا لگتا تھا جیسے بادلوں میں چھپا ہوا چمکتا سورج ہوایک نورانی وجود ابوطالب نے اس بچے کاہاتھ تھاما اور اسے خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ ٹیک دیا بچہ خاموشی سے اپنی ننھی انگلیوں سے ابوطالب کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا اس وقت آسمان بالکل صاف تھا مگر پھر ایک عجیب منظر شروع دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف بادل امنےلگے ہوا بدلی فضا بدلی اور پھر ایسی بارش برسی کہ وادی میں سیلاب آگیا خشک زمین سر سبز ہوگی شہر بھی اور بیابان بھی زندہ ہواٹھے یہ صرف بارش نہیں تھی یہ ایک نشانی تھی ایک برکت تھی جسے دیکھ کر دلوں نے گواہی دی کہ یہ بچہ عام نہیں ہے عمر تقریباً بارہ سال اور زندگی ایک نے سفر کی طرف بڑھ رہی تھی #@For You
جب خضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف چھ برس کی ہوگی تو آپ علیہ السلام کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا انتکال ہو گیا حضرت بی بی آمنہ کی وفات کے بعد حضرت ام ایمن آپ مکہ مکرمہ لائیں اور دادا نے آپ کو اپنے آغوش تربیت میں انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ پر ورش کیا اور حضرت ام ایمن آپ کی خدمت کرتی رہیں جب عبدالمطلب اپنے ننھے پوتے کو لے کر مکہ پہچے تو ان کے دل میں عجیب کیفیت تھی یہ صرف محبت نہیں تھی یہ ایک یتیم پوتے کے لیے بے مثال شفقت تھی ان کا دل اس بچے کے لیے دھڑکتا تھا جس نے بہت کم عمر میں جدائی کا درد سہ لیا تھا دن گزر تے گئے اور یہ محبت اور بھی گہری ہوتی گئ خانہ کعبہ کے ساے میں عبدالمطلب کے لیے خاص فرش بچھایا جاتا ان کے بیٹے ادب سے اس فرش کے ارد گرد بیٹتے کسی کو ہمت نہ ہوتی کہ اس جگہ پر بیٹھے جہاں عبدالمطلب بیٹھتے تھے مگر ایک ننھا بچہ بے خوف ہے جھجک آتا اور سیدھا ایسی فرش پر جا بیٹھتا یہ کوئی عام بچہ نہیں تھا جب چچا اس ہٹانے کی کوشش کر تے تو عبدالمطلب فوراً فرماتے میرے اسے بیٹے کو چھو ڑ دو خدا کی قسم آقا کی شان نرالی ہے پھر وہ اسے اپنے پاس بٹھا لیتے ابھی اس ننھے بچے کی عمر صرف آٹھ سال دو مہینے اور دس دن ہی ہویا تھی کہ ایک اور سایہ اٹھ گیا دادا عبدالمطلب بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے مکہ کی سر زمین پر وہ عظیم بستی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گی اور یو ننھا دل ایک بار پھر تہنا ہو گیا مگر جانے سے پہلے عبدالمطلب نے ایک اہم فیصلہ کیا انہوں نے اپنے بیٹے اور اس بچے کی چچا ابو طالب کو بلایا اور انہیں وصیت کی کہ اس امانت کا خیال رکھنا یہ صرف ایک بچہ نہیں یہ ایک خاص ذمہ داری ہے پھر کہا تھا ابو طالب نے اس ذمہ داری کو صرف نبھا یا ہی نہیں بلکہ اسے محبت میں بدل دیا انہوں نے اپنے بھتیجے کو اپنی اولاد میں شامل کیا بلکہ اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر چاہا ہر لمحہ ہر حال میں ان کا ساتھ دیا سختیوں میں ڈھال بنے مشکلات میں سایہ بنے چالیس سال سے بھی زیادہ عرصے تک انہوں نے حفاظت مصبت اور حمایت کا حق ادا کیا ان کی دوستی بھی اسی بنیاد پر تھی اور دشمنی بھی یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ کی زمین قید سے تب رہی تھی آسمان صاف تھا بادل کا نام نشان نہ تھا اور لوگ بے بسی کے عالم میں تھے ہر طرف فاقہ ہر طرف پر پیشانی تب قریش نے کہا ابو طالب یہ وادی قید کا شکار ہو گی ہے ہماری اولاد بھوک سے تلپ رہی ہے آئیس بارش کی دعا کریں یہ سن کر ابوطالب ایک بچے کو ساتھ لے کر باہر آے وہ کوئی عام بچہ نہیں تھا ایسا لگتا تھا جیسے بادلوں میں چھپا ہوا چمکتا سورج ہوایک نورانی وجود ابوطالب نے اس بچے کاہاتھ تھاما اور اسے خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ ٹیک دیا بچہ خاموشی سے اپنی ننھی انگلیوں سے ابوطالب کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا اس وقت آسمان بالکل صاف تھا مگر پھر ایک عجیب منظر شروع دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف بادل امنےلگے ہوا بدلی فضا بدلی اور پھر ایسی بارش برسی کہ وادی میں سیلاب آگیا خشک زمین سر سبز ہوگی شہر بھی اور بیابان بھی زندہ ہواٹھے یہ صرف بارش نہیں تھی یہ ایک نشانی تھی ایک برکت تھی جسے دیکھ کر دلوں نے گواہی دی کہ یہ بچہ عام نہیں ہے عمر تقریباً بارہ سال اور زندگی ایک نے سفر کی طرف بڑھ رہی تھی #@For You

About