@kingsadami39: یہ جملہ ایک سخت فرقہ وارانہ اور جذباتی انداز میں کہا جاتا ہے، لیکن “حقیقت” سمجھنے کے لیے قرآن، حدیث اور اہلِ علم کی مکمل گفتگو دیکھنا ضروری ہے، نہ کہ صرف ایک نعرہ۔ اہلِ اسلام میں اس مسئلے پر دو بڑے نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں: 1. ایک گروہ کہتا ہے کہ “یا علی مدد” یا “یا غوث مدد” کہنا جائز نہیں، کیونکہ مدد حقیقی صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ وہ آیات پیش کرتے ہیں جیسے: > “ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔” (سورۃ الفاتحہ 1:5) 2. دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اگر عقیدہ یہ ہو کہ اصل مددگار اللہ ہے، اور انبیاء یا اولیاء کو وسیلہ یا دعا کی درخواست کے طور پر پکارا جائے، تو یہ شرک نہیں۔ وہ وسیلہ اور شفاعت سے متعلق دلائل پیش کرتے ہیں۔ اصل فرق “الفاظ” سے زیادہ “عقیدے” میں ہوتا ہے: اگر کوئی یہ سمجھے کہ اللہ کے بغیر کوئی ہستی خود مختار طاقت رکھتی ہے، تو یہ اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔ لیکن اگر کوئی اللہ ہی کو اصل فاعل مانتے ہوئے کسی نیک ہستی کو وسیلہ سمجھے، تو بہت سے علماء اسے مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں اور اس پر صدیوں سے علمی اختلاف موجود ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کو فوراً “دجال کے پیچھے چلنے والا” یا گمراہ کہنا درست طرزِ گفتگو نہیں۔ دجال کے فتنے سے بچنے کا طریقہ: توحید مضبوط کرنا قرآن و صحیح حدیث سیکھنا جذباتی نعروں کے بجائے علم حاصل کرنا مسلمانوں کی تکفیر اور نفرت سے بچنا اہلِ علم کے اختلاف کو گالی، طعن یا خوف پھیلانے کے بجائے علم، ادب اور دلیل سے سمجھنا بہتر ہے۔#صدام_حسين_يا_صقر_العرب_الله_يرحمك #viralpicture #foryou #foryoupageofficiall