@permanent_lock7: آخری سانس کا سفر وہ دونوں ایک ایسی دنیا میں رہتے تھے جہاں محبت کرنا کسی جرم سے کم نہیں تھا۔ نہ ان کے پاس کوئی بڑا نام تھا، نہ دنیا کی دولت۔ ان کے پاس اگر کچھ تھا، تو وہ ایک دوسرے کا ساتھ اور وہ پاکیزہ دعا تھی جو وہ ہر رات مانگا کرتے تھے: ’’میری حسرت ہے کہ تم مجھے مل جاؤ، میری دعا ہے کہ تمہارے نہ ملنے پر میں مر جاؤں۔‘‘ کائنات شاید اس دعا کو بہت غور سے سن رہی تھی، لیکن اس نے قبولیت کا وہ راستہ چنا جس کی تکلیف جھیلنے کا حوصلہ کسی انسان میں نہیں ہوتا۔ وہ لڑکی، جسے وہ محبت سے اپنی "پیاری سی جان" کہتا تھا، ہمیشہ اس کے خوابوں کے تحفظ میں خود کو محفوظ محسوس کرتی تھی۔ وہ جب بھی اداس ہوتی، وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر کہتا، ’’جب تک میں ہوں، تمہاری آنکھ سے گرنے والا ہر آنسو پہلے میری روح کو زخمی کرے گا۔‘‘ لیکن زندگی کے دن ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ جدائی کے سائے حالات نے کچھ ایسا رخ بدلا کہ دونوں کے درمیان فاصلوں کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں۔ دنیا نے ان کی محبت پر اتنے پہرے بٹھا دیے کہ ان کا ملنا ناممکن نظر آنے لگا۔ لڑکی کو ایک ایسی جگہ قید کر دیا گیا جہاں دن کی روشنی بھی اسے اندھیری لگتی تھی۔ وہ گھنٹوں روتی، بکھرے بالوں کے ساتھ گھٹنوں میں سر دیے بس یہی گنگناتی کہ اگر وہ اسے نہ ملا، تو وہ جی نہیں پائے گی۔ دوسری طرف، وہ لڑکا... جو اس کی مسکراہٹ کے لیے دنیا سے لڑ سکتا تھا، اس جدائی کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے اسے پانے کے لیے ہر حد پار کی، ہر دروازہ کھٹکھٹایا، راتوں کو جاگ کر سڑکوں پر خاک چھانی۔ پر دنیا کے بے رحم اصولوں کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ محبت کی اس تڑپ اور مسلسل ملنے والی ناکامی نے اس کے اندر کے انسان کو توڑ کر رکھ دیا۔ وہ اندر سے کھوکھلا ہونے لگا، یہاں تک کہ اس کا جسم اس شدید صدمے کو برداشت نہ کر سکا اور وہ ایک جان لیوا بیماری کی گرفت میں آ گیا۔ وہ بستر سے لگ گیا، لیکن اس کی آنکھیں صرف ایک ہی چہرے کی منتظر تھیں اور ہونٹوں پر آخری سانس تک بس ایک ہی نام تھا۔ آخری ملاقات کا منظر کہتے ہیں جب انسان کی آخری گھڑی آتی ہے، تو روح اپنے سب سے پیارے وجود کو پکارتی ہے۔ کسی طرح، تکیف دہ راستوں سے گزر کر، وہ لڑکی تمام پہرے توڑ کر اس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ جب اس نے کمرے کا دروازہ کھولا، تو وقت جیسے تھم گیا۔ سامنے صوفے پر وہ شخص موجود تھا جو کبھی اس کی پوری دنیا تھا، لیکن آج وہ بالکل ساکت تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور سانسیں اتنی دھیمی تھیں جیسے رخصت ہونے کی اجازت مانگ رہی ہوں۔ وہ بھاگتی ہوئی آئی اور اس کے گھٹنوں کے پاس فرش پر بیٹھ گئی۔ اس کے بکھرے ہوئے بال اس کے چہرے پر گر رہے تھے، آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔ اس نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے اس کے بے جان ہوتے چہرے کو تھاما (بالکل اسی طرح جیسے تصویر میں ہے)۔ اس کے گرم آنسو لڑکے کے گالوں پر گرنے لگے۔ ’’اٹھو... دیکھو میں آ گئی ہوں،‘‘ اس نے سسکتے ہوئے کہا۔ ’’تم نے کہا تھا نا کہ تم میرے آنسو نہیں دیکھ سکتے؟ دیکھو آج میں کتنا رو رہی ہوں، تم اٹھتے کیوں نہیں؟‘‘ لڑکے نے بہت مشکل سے، اپنی زندگی کی آخری طاقت جمع کرتے ہوئے اپنی بوجھل آنکھیں کھولیں۔ اپنی "پیاری سی جان" کو اپنے سامنے پا کر اس کے خشک ہونٹوں پر ایک ہلکی سی، سکون بھری مسکراہٹ ابھری۔ اس نے اپنا ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی تاکہ اس کے آنسو پونچھ سکے، لیکن اس کے ہاتھ میں اتنی سکت بھی نہیں بچی تھی۔ ’’تم آ گئیں...‘‘ اس کی آواز اتنی مدہم تھی جیسے کوئی سرگوشی ہو۔ ’’میں... میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔ دیکھو، میری دعا پوری ہو رہی ہے۔ تم مجھے مل نہیں سکیں، اس لیے اب میرا جانے کا وقت آ گیا ہے۔‘‘ ’’نہیں! ایسا مت کہو!‘‘ لڑکی نے تڑپ کر اس کے سینے پر سر رکھ دیا، جہاں دل کی دھڑکنیں اب اپنی آخری گنتی گن رہی تھیں۔ ’’تم مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ ہم نے ساتھ جینے کا وعدہ کیا تھا!‘‘ لڑکے نے آخری بار گہرا سانس لیا، اس کی آنکھوں سے بھی ایک آنسو کا قطرہ ڈھلکا اور اس نے الوداعی انداز میں اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر لیں۔ اس کا چہرہ لڑکی کے ہاتھوں میں ہی یکسر ٹھنڈا ہو گیا۔ ابدی خاموشی کمرے میں اب صرف لڑکی کی چیخیں اور سسکیاں گونج رہی تھیں۔ وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی، اس کا چہرہ چوم رہی تھی، لیکن وہ جا چکا تھا—اس دنیا سے بہت دور جہاں کوئی انہیں الگ نہیں کر سکتا تھا۔ محبت جیت گئی تھی یا ہار گئی، یہ تو کوئی نہیں جانتا... لیکن اس دن اس صوفے پر ایک تڑپتی ہوئی روح نے دم توڑا تھا اور دوسری روح ہمیشہ کے لیے ایک زندہ لاش بن گئی تھی۔ اس کی وہ دعا اتنی سچی تھی کہ کائنات نے اسے حرف بہ حرف سچ کر دکھایا: ’تمہارے نہ ملنے پر میں مر جاؤں۔‘ #foryou #growmyaccount #foryoupage #permanent_lock🔐 #شہزادی_شہزادہ👸