@dbora.chagas07: I'll Be Over You 🎶 Toto🎙 #flasback #nostalgia #lovesongs

Débora Chagas
Débora Chagas
Open In TikTok:
Region: BR
Monday 18 May 2026 03:21:24 GMT
699
26
1
13

Music

Download

Comments

cristianejorgej
Cris 🎀 :
2026-09-22 01:19:58
0
To see more videos from user @dbora.chagas07, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

امریکہ کے شہر نیویارک سے تعلق رکھنے والے مائیک اور این ہاورڈ نے اپنی پرآسائش زندگی اور بہترین ملازمتوں کو خیرباد کہہ کر ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ 2011 میں شادی کے بعد جب انہوں نے ہنی مون کا منصوبہ بنایا تو روایتی طور پر چند ہفتوں کی چھٹیوں کے بجائے انہوں نے اپنی دس سالہ بچت، گھر کا کرایہ اور غیر ضروری سامان فروخت کر کے دنیا دیکھنے کا ارادہ کر لیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کا انتظار کرنے کے بجائے جوانی میں ہی سفر کر لینا چاہیے کیونکہ بعد میں صحت اور ہمت ساتھ نہیں دیتی۔ ابتدا میں ان کا ارادہ صرف پانچ سو دن سفر کرنے کا تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ دورانیہ بڑھتا گیا اور وہ پانچ سال کے عرصے میں پچاس سے زائد ممالک کا سفر کر گئے۔ ان کی اس لمبی سیاحت کا اصل راز کم بجٹ میں بہترین منصوبہ بندی تھی۔ انہوں نے مہنگے ہوٹلوں کے بجائے گلی محلوں کے سستے گیسٹ ہاؤسز میں قیام کیا، بین الاقوامی ریستورانوں کی جگہ سڑک کنارے ملنے والے مقامی کھانوں کو ترجیح دی اور ہوائی جہاز کی جگہ بس اور ٹرین کے ذریعے سفر کیا تاکہ اخراجات بھی کم ہوں اور مقامی ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملے۔ بعض اوقات وہ لوگوں کے گھروں اور پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کے بدلے مفت رہائش بھی حاصل کر لیتے تھے۔ شروع میں ان کا یومیہ خرچ انچاس ڈالر فی کس تھا جو بعد میں گھٹ کر صرف ساڑھے بارہ ڈالر روزانہ فی کس تک آ گیا، اگرچہ مہنگے اور سستے ممالک کے لحاظ سے اخراجات میں فرق رہتا تھا۔ سفر کے دوران انہوں نے اپنے تجربات اور تصاویر
امریکہ کے شہر نیویارک سے تعلق رکھنے والے مائیک اور این ہاورڈ نے اپنی پرآسائش زندگی اور بہترین ملازمتوں کو خیرباد کہہ کر ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ 2011 میں شادی کے بعد جب انہوں نے ہنی مون کا منصوبہ بنایا تو روایتی طور پر چند ہفتوں کی چھٹیوں کے بجائے انہوں نے اپنی دس سالہ بچت، گھر کا کرایہ اور غیر ضروری سامان فروخت کر کے دنیا دیکھنے کا ارادہ کر لیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر کا انتظار کرنے کے بجائے جوانی میں ہی سفر کر لینا چاہیے کیونکہ بعد میں صحت اور ہمت ساتھ نہیں دیتی۔ ابتدا میں ان کا ارادہ صرف پانچ سو دن سفر کرنے کا تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ دورانیہ بڑھتا گیا اور وہ پانچ سال کے عرصے میں پچاس سے زائد ممالک کا سفر کر گئے۔ ان کی اس لمبی سیاحت کا اصل راز کم بجٹ میں بہترین منصوبہ بندی تھی۔ انہوں نے مہنگے ہوٹلوں کے بجائے گلی محلوں کے سستے گیسٹ ہاؤسز میں قیام کیا، بین الاقوامی ریستورانوں کی جگہ سڑک کنارے ملنے والے مقامی کھانوں کو ترجیح دی اور ہوائی جہاز کی جگہ بس اور ٹرین کے ذریعے سفر کیا تاکہ اخراجات بھی کم ہوں اور مقامی ثقافت کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملے۔ بعض اوقات وہ لوگوں کے گھروں اور پالتو جانوروں کی دیکھ بھال کے بدلے مفت رہائش بھی حاصل کر لیتے تھے۔ شروع میں ان کا یومیہ خرچ انچاس ڈالر فی کس تھا جو بعد میں گھٹ کر صرف ساڑھے بارہ ڈالر روزانہ فی کس تک آ گیا، اگرچہ مہنگے اور سستے ممالک کے لحاظ سے اخراجات میں فرق رہتا تھا۔ سفر کے دوران انہوں نے اپنے تجربات اور تصاویر "ہنی ٹریک" نامی بلاگ پر شیئر کرنا شروع کیے، جس سے حاصل ہونے والی مقبولیت نے انہیں فوٹوگرافی، سفری تحریروں اور سیاحتی اداروں کے ساتھ کام کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ اس طرح بچت سے شروع ہونے والا یہ ہنی مون آگے چل کر ان کا مستقل کاروبار بن گیا اور واشنگٹن پوسٹ اور لاس اینجلس ٹائمز جیسے بڑے اخبارات نے بھی ان پر مضامین شائع کیے۔ اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا دیکھنے کے لیے بے تحاشا دولت سے زیادہ بہتر حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے، اور اگر انسان چاہیں تو وہ اپنے ملک کے اندر بھی تھوڑی سی بچت کے ساتھ خوبصورت یادیں بنا سکتا ہے۔ ماخذ: واشنگٹن پوسٹ، 7 دسمبر 2016؛ لاس اینجلس ٹائمز، ستمبر 2013؛ اور مائیک و این ہاورڈ کے سفری تجربات۔

About