@general.knowledge453: *"شوق کی قیمت اور ضد کا نقصان دیکھا نہیں کرتے"*
---
*تفصیلی پیراگراف:*
کچھ لوگ پیدا ہی اس لیے ہوتے ہیں کہ وہ عام راستے پر چلنے سے انکار کر دیں۔ ان کے دل میں ایک ایسی آگ ہوتی ہے جسے دنیا "شوق" کہتی ہے، اور ایک ایسی ہٹ ہوتی ہے جسے دنیا "ضد" کہتی ہے۔ ایسے لوگ جب کسی چیز کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، تو نہ انہیں تھکن محسوس ہوتی ہے، نہ ناکامی ڈراتی ہے، نہ نقصان کا خوف روکتا ہے۔ کیونکہ شوق کی قیمت اور ضد کا نقصان دیکھا نہیں کرتے، بس کر گزرتے ہیں۔
دنیا ہمیشہ حساب کتاب کرتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں "فائدہ کیا ہوگا؟ نقصان تو نہیں ہوگا؟ لوگ کیا کہیں گے؟" مگر جن کے اندر شوق جاگ اٹھتا ہے، وہ ان سوالوں سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ وہ راتیں جاگ کر محنت کرتے ہیں، جیب خالی کر کے خواب پورے کرتے ہیں، لوگوں کے طعنے سن کر بھی مسکراتے ہیں۔ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ جو چیز دل میں اتر جائے، اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ کبھی وقت کی، کبھی پیسے کی، کبھی رشتوں کی۔ مگر وہ قیمت چکا دیتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے خواب پورا کرنا سانس لینے سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
اور ضد؟ ضد کو لوگ منفی لفظ سمجھتے ہیں، مگر یہی ضد بڑے لوگوں کو بناتی ہے۔ جب دنیا کہتی ہے "یہ نہیں ہو سکتا"، تو ضد کہتی ہے "میں کر کے دکھاؤں گا"۔ یہ ضد ہی ہے جو ایک عام انسان کو خاص بناتی ہے۔ ہاں، ضد میں نقصان بھی ہوتا ہے۔ رشتے ٹوٹتے ہیں، لوگ چھوٹ جاتے ہیں، راستے مشکل ہو جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ ضد پر اڑے رہتے ہیں، وہ یا تو منزل پا لیتے ہیں، یا اتنا سیکھ لیتے ہیں کہ اگلی بار گرنے کا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔
میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ شوق اور ضد دونوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں، وہی تاریخ بناتے ہیں۔ وہ نہ دوسروں کی سنتے ہیں، نہ حالات سے ڈرتے ہیں۔ وہ گرتے ہیں، مگر اٹھتے بھی ہیں۔ ہارتے ہیں، مگر سیکھتے بھی ہیں۔ اور ایک دن وہی لوگ دنیا کے سامنے مثال بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔
تو اگر تمہارے دل میں بھی کوئی شوق ہے، کوئی خواب ہے، تو قیمت کا مت سوچو۔ اور اگر تم نے کوئی ٹھان لی ہے، تو نقصان کا مت ڈرو۔ کیونکہ زندگی انہی کی ہوتی ہے جو شوق کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں، اور ضد کے لیے سب کچھ سہ لیتے ہیں۔
*ون لائنر:*
"حساب کتاب کرنے والے تماشائی بنتے ہیں، اور شوق و ضد والے تاریخ لکھتے ہیں 🔥"