@cadefergeson: Don’t worry guys this is my brokerage I max out my Roth IRA safer😂 #rothira #Investment #fidelity #brokerage #fyp

Fergie
Fergie
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 19 May 2026 03:25:49 GMT
7458
218
21
0

Music

Download

Comments

.carlylynnn
carly cat :
bae what does any of this mean
2026-05-19 03:35:51
2
tide24088
C :
At 21 it’s more important to just invest returns don’t matter as much, but I like it
2026-05-22 00:09:11
2
jael.lopez96
Jael Lopez :
D if you learn something from successful investors is that etf shouldn’t be your whole portfolio
2026-05-24 14:15:48
5
quickthinkingfinance
Quick Thinking Finance :
Good diversification, solid portfolio
2026-05-22 20:02:52
5
khaug1.0
L :
40% rklb 20% micron 20% nvidia 20% nbis
2026-05-27 00:05:34
2
thankyouapple8
Average Joe :
At 21? You shouldn’t be diversifying at all! Sell everything and buy 100% Google class A stock. Your welcome.
2026-05-26 00:27:01
1
waitforit0555
Mr Waitforit :
Look into buying soxq less fee and cheaper shares
2026-05-23 11:48:48
1
josh2changs
Josh Chang :
Your brokerage should be pretty equivalent to your Roth IRA , that has a great allocation, not sure what the strategy here is?
2026-05-22 01:17:22
4
lance2012a
lance2012a :
dont forget QQQ
2026-07-01 05:15:24
0
seeunhell77
seeunhell77 :
Good picks
2026-05-26 23:19:45
1
saa20230
S T :
An F mate if there was something lower than that I’d give that
2026-05-23 19:28:05
3
conscious_emma
Conscious_Emma :
If you wanted to simplify it into fewer positions while keeping a similar theme, a cleaner version could look like: 50% SMH 25% XLE 25% VRT or GEV Or for more diversification: 60% VOO 20% SMH 20% split among energy/infrastructure names
2026-05-22 05:29:45
2
To see more videos from user @cadefergeson, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا پشاور کے عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب! وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا بڑا اعلان۔ ہمارا پہلا مطالبہ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے کیسز عدالتوں میں لگائے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ان کے وکلاء، ڈاکٹروں، اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں بحال کی جائیں۔ اگر انصاف ملا تو عمران خان تیس منٹ میں رہا ہو سکتے ہیں، اگر انصاف نہ ملا تو 27 ستمبر کو قوم اسلام آباد کا رخ کرے گی۔ ہمیں انصاف چاہیے، بھیک نہیں۔ آپ کو انصاف دینا پڑے گا۔ جب عمران خان آئے گا تو امن بھی آئے گا، ترقی بھی آئے گی اور خوشحالی بھی آئے گی۔ پورے ملک سے آنے والے عوام کو پشاور آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ آج عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہو گئے ہیں۔ آج سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوام عمران خان کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے ہیں۔ آپ سب نے عمران خان سے اپنی محبت کا بھرپور اظہار کیا ہے، میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آج کا عوامی سمندر ثابت کرتا ہے کہ عمران خان آج بھی پاکستان کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ آج کی شدید گرمی میں اپنے اس عظیم اجتماع کو دیکھیں اور سوچیں کہ عمران خان گزشتہ تین برس سے جیل میں یہ سختیاں کیسے برداشت کر رہے ہیں۔ عمران خان آسائشوں کی زندگی گزار سکتے تھے، مگر پاکستان کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں قبول کیں۔ عمران خان نے کبھی بیرونی طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق اور اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کی۔ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی بہنیں ملاقات کے لیے جاتی ہیں تو ان پر زہریلا پانی پھینکا جاتا ہے۔ پورا خاندان ہمارے لیے تکلیفیں برداشت کر رہا ہے۔ عمران خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ عمران خان کو اندرونی غداروں نے بیرونی سازش کے تحت اس لیے کرسی سے ہٹایا کہ انہوں نے غلامی کو
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا پشاور کے عظیم الشان عوامی جلسے سے خطاب! وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا بڑا اعلان۔ ہمارا پہلا مطالبہ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کے کیسز عدالتوں میں لگائے جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ان کے وکلاء، ڈاکٹروں، اہلِ خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقاتیں بحال کی جائیں۔ اگر انصاف ملا تو عمران خان تیس منٹ میں رہا ہو سکتے ہیں، اگر انصاف نہ ملا تو 27 ستمبر کو قوم اسلام آباد کا رخ کرے گی۔ ہمیں انصاف چاہیے، بھیک نہیں۔ آپ کو انصاف دینا پڑے گا۔ جب عمران خان آئے گا تو امن بھی آئے گا، ترقی بھی آئے گی اور خوشحالی بھی آئے گی۔ پورے ملک سے آنے والے عوام کو پشاور آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ آج عمران خان کی گرفتاری کے تین سال مکمل ہو گئے ہیں۔ آج سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوام عمران خان کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے ہیں۔ آپ سب نے عمران خان سے اپنی محبت کا بھرپور اظہار کیا ہے، میں آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ آج کا عوامی سمندر ثابت کرتا ہے کہ عمران خان آج بھی پاکستان کے مقبول ترین رہنما ہیں۔ آج کی شدید گرمی میں اپنے اس عظیم اجتماع کو دیکھیں اور سوچیں کہ عمران خان گزشتہ تین برس سے جیل میں یہ سختیاں کیسے برداشت کر رہے ہیں۔ عمران خان آسائشوں کی زندگی گزار سکتے تھے، مگر پاکستان کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں قبول کیں۔ عمران خان نے کبھی بیرونی طاقتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں نے عالمی سطح پر مسلمانوں کے حقوق اور اسلاموفوبیا کے خلاف آواز بلند کی۔ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی بہنیں ملاقات کے لیے جاتی ہیں تو ان پر زہریلا پانی پھینکا جاتا ہے۔ پورا خاندان ہمارے لیے تکلیفیں برداشت کر رہا ہے۔ عمران خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ عمران خان کو اندرونی غداروں نے بیرونی سازش کے تحت اس لیے کرسی سے ہٹایا کہ انہوں نے غلامی کو "Absolutely Not" کہا تھا۔ کورونا وبا کے باوجود عمران خان کے دور میں ملکی شرحِ نمو 6.1 فیصد رہی۔ آج تمام دعوؤں کے باوجود ملکی شرحِ نمو تقریباً 3 فیصد ہے۔ 9 اپریل 2022 کو ریجیم چینج کے بعد ملک پر چوروں اور لٹیروں کو مسلط کیے جانے سے پاکستان ترقی کے بجائے تنزلی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔ آئی ایم ایف نے رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی حکومت میں 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، مگر پوچھنے والا کوئی نہیں۔ جس رہنما نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی، آج وہی جیل میں ہے۔ اندرونی غداروں اور بیرونی سازش کے نتیجے میں ہونے والی ریجیم چینج کے بعد دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا، جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا ایک بار پھر بدامنی اور خونریزی کا شکار ہوا۔ آج پشتون، بلوچ، کشمیری اور پنجابی سب ظلم اور بدامنی کا شکار ہیں۔ یہ خونی درندے بن چکے ہیں۔ فسطائی نظام عوام کے جان و مال کی پروا نہیں کرتا۔ ہمارے نوجوان کبھی جیٹ طیاروں اور کبھی ڈرون حملوں سے شہید ہو رہے ہیں۔ ہم نے عمران خان کے دورِ حکومت میں 2018 سے 2022 تک امن دیکھا تھا۔ عمران خان جیل میں انتظار کر رہا ہے کہ میری قوم میرا مقدمہ لڑے گی۔ ملک پر مسلط قبضہ مافیا بند کمروں میں فیصلے کر رہا ہے۔ یہ بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے اجرتی قاتل بن چکے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں نے ہمسایہ ممالک ایران، افغانستان اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب کر دیے ہیں۔ یہ چند خاندان مسلسل پاکستان کو کھا رہے ہیں، اور ہمیں ان کے خلاف نکلنا ہے۔ ہم نے ان ججوں کی آواز بننا ہے جو انصاف نہیں کر پا رہے، اس میڈیا کا بازو بننا ہے جو سچ نہیں دکھا سکتا۔ یہ تمام ادارے، صحافی اور ججز آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جب ادارے مفلوج ہوں، عدالتوں میں انصاف نہ ملے تو ہمارے پاس آخر کون سا راستہ بچتا ہے؟ ہم نے اپنا مقدمہ سڑکوں پر لڑنا ہے، ظلم اور ظالم کے خلاف لڑنا ہے۔ ہمیں محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد کا کردار ادا کرنا ہے۔ میرے نوجوانو! کچھ لوگ آپ کو کاکروچ کہتے ہیں، مگر میں آپ کو اقبال کا شاہین کہتا ہوں۔ ہمیں اپنا انصاف خود لینا ہے۔ کیا آپ گولیوں، ٹینکوں اور راکٹوں سے ڈرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو میں آپ کی قیادت کروں گا۔ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہمارا فرض ہے۔ اب انہی کرپٹ خاندانوں کی نئی نسل کو ملک پر مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ہم موروثی سیاست اور خاندانوں کی حکمرانی قبول نہیں کریں گے۔ ہم نے ہر قانونی فورم اور ہر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، مگر انصاف نہیں ملا۔ اب ہمارے پاس اپنے آئینی حق، یعنی پرامن احتجاج، کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ #CMKP #SohailAfridi

About