@kaylaportelafe:

kaylaportelafe
kaylaportelafe
Open In TikTok:
Region: BR
Wednesday 20 May 2026 02:01:29 GMT
2536
195
1
21

Music

Download

Comments

rafaelgondim794
Raphael Gondim :
🥰🥰🥰
2026-06-13 23:48:55
0
To see more videos from user @kaylaportelafe, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

چند پتھر کے ٹکڑوں میں لکھی ہوئی یہ عبارت اپنے اندر ایک پوری تاریخ سمیٹے ہوئے ہے: “الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة، لا إله إلا الله” اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ عمر بن خطابؓ کا دنیا و آخرت میں مددگار اور کارساز ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں حالیہ آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوران مدینہ منورہ کے قریب المہد کے علاقے میں ایک نادر پتھریلا کتبہ دریافت ہوا ہے، جس پر یہ الفاظ درج ہیں۔ اسے ابتدائی اسلامی دور سے منسوب کیا جا رہا ہے اور سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق یہ ان متعدد دریافتوں میں سے ایک ہے جو اس خطے کی قدیم تاریخ اور اسلامی ورثے کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ اس تحریر کو دیکھیں تو بات صرف چند کندہ الفاظ کی نہیں رہتی، بلکہ ذہن کے سامنے ایک پورا زمانہ آ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ زمانہ جب ایمان دلوں میں تازہ تھا، اور ناموں کے ساتھ محبت کے نہیں بلکہ عقیدے کے رشتے جڑے ہوتے تھے۔ حضرت عمر بن خطابؓ وہ عظیم شخصیت ہیں جنہیں تاریخ عدل و انصاف کی علامت کے طور پر یاد کرتی ہے۔ ان کی خلافت کا دور وہ تھا جس میں ریاست کی بنیاد خوف یا طاقت پر نہیں بلکہ انصاف اور ذمہ داری کے احساس پر قائم تھی۔ انہیں “فاروقِ اعظم” کہا جاتا ہے، یعنی حق و باطل میں واضح فرق کرنے والا۔ اگر یہ کتبہ واقعی اسی ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے تو یہ ہمیں اس سادہ مگر عظیم حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ پہلی صدی کے مسلمانوں کے ہاں عقیدہ صرف زبان تک محدود نہیں تھا، وہ پتھروں پر بھی نقش کیا جاتا تھا اور دلوں میں بھی۔ صدیاں گزر جاتی ہیں، وقت مٹاتا رہتا ہے، مگر کچھ نام اور کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کی گرد میں بھی اپنی روشنی قائم رکھتی ہیں۔ یہ تحریر بھی شاید اسی خاموش روشنی کا ایک نشان ہے۔ سبحان اللہ#پاکستان #الامارات #ksa #صلى_الله_عليه_وسلم #افغانستان
چند پتھر کے ٹکڑوں میں لکھی ہوئی یہ عبارت اپنے اندر ایک پوری تاریخ سمیٹے ہوئے ہے: “الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة، لا إله إلا الله” اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ عمر بن خطابؓ کا دنیا و آخرت میں مددگار اور کارساز ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں حالیہ آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوران مدینہ منورہ کے قریب المہد کے علاقے میں ایک نادر پتھریلا کتبہ دریافت ہوا ہے، جس پر یہ الفاظ درج ہیں۔ اسے ابتدائی اسلامی دور سے منسوب کیا جا رہا ہے اور سعودی ہیریٹیج کمیشن کے مطابق یہ ان متعدد دریافتوں میں سے ایک ہے جو اس خطے کی قدیم تاریخ اور اسلامی ورثے کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ اس تحریر کو دیکھیں تو بات صرف چند کندہ الفاظ کی نہیں رہتی، بلکہ ذہن کے سامنے ایک پورا زمانہ آ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ زمانہ جب ایمان دلوں میں تازہ تھا، اور ناموں کے ساتھ محبت کے نہیں بلکہ عقیدے کے رشتے جڑے ہوتے تھے۔ حضرت عمر بن خطابؓ وہ عظیم شخصیت ہیں جنہیں تاریخ عدل و انصاف کی علامت کے طور پر یاد کرتی ہے۔ ان کی خلافت کا دور وہ تھا جس میں ریاست کی بنیاد خوف یا طاقت پر نہیں بلکہ انصاف اور ذمہ داری کے احساس پر قائم تھی۔ انہیں “فاروقِ اعظم” کہا جاتا ہے، یعنی حق و باطل میں واضح فرق کرنے والا۔ اگر یہ کتبہ واقعی اسی ابتدائی دور سے تعلق رکھتا ہے تو یہ ہمیں اس سادہ مگر عظیم حقیقت کی طرف لے جاتا ہے کہ پہلی صدی کے مسلمانوں کے ہاں عقیدہ صرف زبان تک محدود نہیں تھا، وہ پتھروں پر بھی نقش کیا جاتا تھا اور دلوں میں بھی۔ صدیاں گزر جاتی ہیں، وقت مٹاتا رہتا ہے، مگر کچھ نام اور کچھ سچائیاں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کی گرد میں بھی اپنی روشنی قائم رکھتی ہیں۔ یہ تحریر بھی شاید اسی خاموش روشنی کا ایک نشان ہے۔ سبحان اللہ#پاکستان #الامارات #ksa #صلى_الله_عليه_وسلم #افغانستان

About