@s.ssntaa: pait tnn ju#blora24jam #fotolive #masukberandamuu #foryou #fyppppppppppppppppppppppp

sinta
sinta
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 20 May 2026 02:37:04 GMT
1463
88
7
4

Music

Download

Comments

gjlss288
hyxy :
kiwww
2026-05-20 03:00:42
1
cocholate_1444
ahmad_ :
folbek yaa
2026-05-20 03:35:31
0
rusdi_selaluceria1
gerZ Yoyav5 :
apane te seng pait
2026-05-20 13:41:09
0
brondong_manes2
NumB_2 :
koyok tau rohh🙄
2026-05-20 03:04:49
0
To see more videos from user @s.ssntaa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بسمِ ربِّ الشہداء سلامٌ علیٰ الحسینؑ و علیٰ علیِّ بن الحسینؑ و علیٰ اولادِ الحسینؑ و علیٰ اصحابِ الحسینؑ غمِ شہِ کربلا تو ازل سے اہلِ دل کی متاعِ جاں اور سرمایۂ ایماں رہا ہے، مگر امسال اس غمِ مقدس کے ساتھ ایک اور حزنِ نہاں بھی قلب کے نہاں خانوں میں موجزن ہے؛ ایسا حزن جو شکوہ نہیں، مگر خاموشی کی صورت میں روح پر اترتا رہتا ہے۔ سنا تھا کہ جب ماہِ محرم اپنی سوگوار ساعتوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے تو کدورتوں کے صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں، رنجشوں کے دریچے بند کر دیے جاتے ہیں، اور بیٹیوں کے لیے گھروں کے در وا کر دیے جاتے ہیں۔ مجالسِ عزا برپا ہوتیں، ذکرِ مظلومِ کربلا سے فضا معطر ہوتی، اور اہلِ خانہ ایک ہی دسترخوانِ غم پر جمع ہو کر بی بی سکینہؑ کی غربت اور بی بی سُغریٰؑ کی حسرتِ دیدار کا پرسہ دیتے۔ مگر اس بار گردشِ ایام نے ایک اور ہی منظر دکھایا ہے۔ چہرے موجود ہیں مگر مانوسیت مفقود؛ رشتے قائم ہیں مگر قربت ناپید؛ آشنائی کے دعوے باقی ہیں مگر دل کا محرم کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہجومِ آشنا میں بھی ایک انجمنِ تنہائی آباد ہے۔ تاہم اس کیفیتِ ملال میں بھی دل شکر سے خالی نہیں۔ اگر بزمِ خانہ کی وہ پرانی رونقیں نصیب نہیں ہوئیں تو کیا ہوا، مولا حسینؑ نے اپنی عزاداری سے محروم نہیں فرمایا۔ اسیرانِ شام کی یاد میں، مسافرانِ کربلا کی سنت کی پیروی میں، کوچہ و بازار میں عزاداری کا شرف عطا ہوا ہے۔ یہ سعادت بھی کم نہیں کہ انسان اپنی تنہائی کو ماتمِ حسینؑ میں ڈھال دے اور اپنے اشکوں کو کاروانِ کربلا کے قدموں میں نذر کر دے۔ شاید یہی رازِ وفا ہے کہ جب اہلِ دنیا کے در نیم وا یا بستہ نظر آئیں تو بابِ حسینؑ پوری شانِ کرم کے ساتھ کھل جاتا ہے۔ جب دل اپنوں کی بے التفاتی سے بوجھل ہو تو ذکرِ مظلومِ کربلا اسے سہارا دیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو تنہا محسوس کرے تو قافلۂ اسیرانِ شام یہ پیغام دیتا ہے کہ راہِ حق کے مسافر اکثر تنہا ہوتے ہیں، مگر کبھی بے سہارا نہیں ہوتے۔ اے وارثِ آدمؑ و نوحؑ و ابراہیمؑ! اس محرم ہمارے اشک، ہماری حاضری، ہماری خاموش دعائیں اور یہ دلِ شکستہ اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنے غم کی حرارت، اپنی یاد کی حلاوت اور اپنی محبت کے نور سے ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھ۔ السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسینؑ سلامٌ علیٰ قلبِ زینبَ الصبور، و علیٰ غربۃِ سکینۃَ المظلومة، و علیٰ حسرةِ سُغریٰ المنتظرة۔
بسمِ ربِّ الشہداء سلامٌ علیٰ الحسینؑ و علیٰ علیِّ بن الحسینؑ و علیٰ اولادِ الحسینؑ و علیٰ اصحابِ الحسینؑ غمِ شہِ کربلا تو ازل سے اہلِ دل کی متاعِ جاں اور سرمایۂ ایماں رہا ہے، مگر امسال اس غمِ مقدس کے ساتھ ایک اور حزنِ نہاں بھی قلب کے نہاں خانوں میں موجزن ہے؛ ایسا حزن جو شکوہ نہیں، مگر خاموشی کی صورت میں روح پر اترتا رہتا ہے۔ سنا تھا کہ جب ماہِ محرم اپنی سوگوار ساعتوں کے ساتھ وارد ہوتا ہے تو کدورتوں کے صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں، رنجشوں کے دریچے بند کر دیے جاتے ہیں، اور بیٹیوں کے لیے گھروں کے در وا کر دیے جاتے ہیں۔ مجالسِ عزا برپا ہوتیں، ذکرِ مظلومِ کربلا سے فضا معطر ہوتی، اور اہلِ خانہ ایک ہی دسترخوانِ غم پر جمع ہو کر بی بی سکینہؑ کی غربت اور بی بی سُغریٰؑ کی حسرتِ دیدار کا پرسہ دیتے۔ مگر اس بار گردشِ ایام نے ایک اور ہی منظر دکھایا ہے۔ چہرے موجود ہیں مگر مانوسیت مفقود؛ رشتے قائم ہیں مگر قربت ناپید؛ آشنائی کے دعوے باقی ہیں مگر دل کا محرم کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہجومِ آشنا میں بھی ایک انجمنِ تنہائی آباد ہے۔ تاہم اس کیفیتِ ملال میں بھی دل شکر سے خالی نہیں۔ اگر بزمِ خانہ کی وہ پرانی رونقیں نصیب نہیں ہوئیں تو کیا ہوا، مولا حسینؑ نے اپنی عزاداری سے محروم نہیں فرمایا۔ اسیرانِ شام کی یاد میں، مسافرانِ کربلا کی سنت کی پیروی میں، کوچہ و بازار میں عزاداری کا شرف عطا ہوا ہے۔ یہ سعادت بھی کم نہیں کہ انسان اپنی تنہائی کو ماتمِ حسینؑ میں ڈھال دے اور اپنے اشکوں کو کاروانِ کربلا کے قدموں میں نذر کر دے۔ شاید یہی رازِ وفا ہے کہ جب اہلِ دنیا کے در نیم وا یا بستہ نظر آئیں تو بابِ حسینؑ پوری شانِ کرم کے ساتھ کھل جاتا ہے۔ جب دل اپنوں کی بے التفاتی سے بوجھل ہو تو ذکرِ مظلومِ کربلا اسے سہارا دیتا ہے۔ اور جب انسان خود کو تنہا محسوس کرے تو قافلۂ اسیرانِ شام یہ پیغام دیتا ہے کہ راہِ حق کے مسافر اکثر تنہا ہوتے ہیں، مگر کبھی بے سہارا نہیں ہوتے۔ اے وارثِ آدمؑ و نوحؑ و ابراہیمؑ! اس محرم ہمارے اشک، ہماری حاضری، ہماری خاموش دعائیں اور یہ دلِ شکستہ اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنے غم کی حرارت، اپنی یاد کی حلاوت اور اپنی محبت کے نور سے ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھ۔ السلام علیک یا ابا عبداللہ الحسینؑ سلامٌ علیٰ قلبِ زینبَ الصبور، و علیٰ غربۃِ سکینۃَ المظلومة، و علیٰ حسرةِ سُغریٰ المنتظرة۔

About