@bug.face: EDIT: wait i love all of you guys i didnt expect this to blow up but seeing so many people with the same/similar experiences breaks my heart !!! as much as it’s something that sticks permanently, there is so many people out there who love you and care !!! and if you don’t feel like that, reach out to me :) is this too in my feelings and cringe for the public #fyp #fypシ゚ #xybca #wlw #silly

jean 🐞
jean 🐞
Open In TikTok:
Region: AU
Wednesday 20 May 2026 13:27:10 GMT
437549
106435
242
3699

Music

Download

Comments

alohaitsalina
alina :
i was genuinely sobbing about this the other night to my bf
2026-05-22 15:41:21
976
graham.tsmith
graham :
wait like delete this
2026-05-22 01:20:54
328
bumble_bee1232
bee :
We were both kids bro I can’t even blame her cause she’s a victim of her own situation but I mean I just can’t get it out of my head
2026-06-15 12:35:55
0
ren_mustdie2
ren 🪐 :
uninvolve me
2026-05-22 21:42:52
679
l07wie
￴￴ :
wait kirk me
2026-05-25 00:43:09
144
tokki2e
ela :
i tried to tell my bf this and we broke up
2026-05-27 21:16:54
33
yoyohoneys1ngh
yoyohoneys1ngh :
I should go and study now
2026-05-21 12:58:52
364
jaiidensky
jaiden :
heavy on the #haha #lol
2026-05-22 19:08:01
89
swag2sy
ᯓ 𝙨𝙮𝙡𝙪𝙨⃟ :
yeah lemme take my ass to school
2026-05-22 10:38:35
40
humangirlth1ng
kat :
Grieving who you could’ve been without all of it
2026-05-24 04:55:41
41
xeek00433uq
Xeek0_👾 :
I can’t even talk about it to anyone either. And if I did they wouldn’t understand.
2026-06-15 04:10:14
0
saintvalentine.xo
Saint Valentine :
i promise it’s not permanent genuinely you get over it. sincerely someone who thought it was permanent and doesn’t even think about it anymore.
2026-05-21 11:23:07
62
raghed_k
Raghed kayal :
Sorry that happened to you , you don’t deserve this hope you heal and recover ❤️🫂
2026-05-20 22:47:58
26
sumie.subba
Sumi :
Wait so like block me
2026-05-23 03:11:45
55
..hairdyeh0lic
..hairdyeh0lic :
2026-05-22 19:45:55
21
kafkasmuse4
fatma :
i’m going THE FUCK to bed
2026-05-23 16:58:26
5
notayessha
ayesha :
this is too relatable for my liking
2026-05-21 18:05:55
17
kavehfever
⋆.˚ miuu𓆝⋆.˚ :
All three of them bro
2026-05-22 00:38:19
21
redsp1derlili_
udontknowme :
My grandma told me eat less and that Iv gain weight. I did and my professor noticed I got so skinny and told me to eat more. He was so sweet
2026-05-23 00:51:15
12
ladybugglittle
little bug :
He moved on SO FAST and I’m stuck here
2026-05-22 02:33:05
11
To see more videos from user @bug.face, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*گورنر بلوچستان// UNDP کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام* *گوادر سے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جب کہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا۔ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اسکا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو فکری رہنمائی ملے گی۔ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کی امداد کے حوالے سے یو این ڈی پی کا کردار لائق تحسین ہے۔ ہمارا ڈونر جرمن حکومت ہے لہٰذا جرمنی اپنے فلسفیانہ ورثے کے باعث دونوں آفاقی نظریات بہتر سمجھنے اور عملی حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں* کوئٹہ15جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کلائمیٹ چینج ایک عالمی مسئلہ ہے لہٰذا اس کا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ انہیں تمام متعلقہ محکموں، مقامی حکام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو مدد اور رہنمائی ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ سرینا ہوٹل میں یو این ڈی پی کے زیر اہتمام بلوچستان میں کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ ریپریزٹیٹو آف یو این ڈی پی پاکستان (Dr. Samuel Risk) ڈپٹی ریپریزٹیٹو (Ms. Van Nyegum ), اعزازی قونصل جنرل میر مراد بلوچ، صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سردار عبدالرحمن کھتران، راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، ہو این ڈی پی کے صوبائی ہیڈ ذوالفقار درانی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، سابق سینیٹر روشن خورشید ںروچہ اور ایڈوکیٹ زرغونہ بڑیچ سمیت متعدد ماہرین اور مہمانان گرامی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ک بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ گوادر سے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ ماحولیاتی تناؤ، گورننس اور سماجی استحکام کیلئے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جب کہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا اور ملک بھر میں 9 ملین سے زائد افراد کو غربت کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں سے 7 فیصد سے زیادہ بلوچستان میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ چینج سے متعلق قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کے ساتھ UNDP کا کردار لائق تحسین ہے بشمول ہاؤسنگ کی تعمیر نو اور بحالی کی امداد کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعہ معاش اور عوامی اداروں کے ساتھ تعمیری مکالمے کے ذریعے آب و ہوا کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز کی مدد و رہنمائی کی ہے۔ ایسی کوششوں کو دیکھنا حوصلہ افزا ہے جو شہریوں کو مکالمے، ثالثی اور شکایات کے ازالے کے ذریعے اپنے خدشات کو اٹھانے میں مدد کرتے ہیں جبکہ حکومتی اداروں کو ان طریقوں سے جواب دینے میں مدد دیتے ہیں جو اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں، رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہیں اور بڑے پیمانے پر عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بلوچستان اپنے منفرد جغرافیہ پہاڑوں، صحراؤں، معدنی وسائل اور ایک طویل ساحلی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ نسلوں سے مشکل ماحولیاتی حالات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ریزیلنس کو ایک نظریہ کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک حصے کے طور پر سمجھتے ہیں۔ اسلئے بلوچستان کو ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو عملی اور ہمارے معروضی حالات پر مبنی ہوں۔ بحیثیت چانسلر آف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں ہر وائس چانسلر اور اپنی گورنر ہاؤس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے کام کو عملی طور پر مرتب کریں۔  بلوچستان میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔   ہماری ساحلی پٹی، دریا، جنگلات، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں اور سب سے بڑھ کر ہمارے لوگوں کی ریزیلنس یہ سب بڑی طاقتیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی دباؤ زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔  پانی کی کمی، خشک سالی، جنگلات کی کٹائی، زمین کی کٹائی اور ساحلی کشیدگی صوبے بھر میں زندگی اور معاش دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔  گوادر اور مکران کی ساحلی پٹی
*گورنر بلوچستان// UNDP کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام* *گوادر سے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جب کہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا۔ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اسکا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے۔ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو فکری رہنمائی ملے گی۔ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کی امداد کے حوالے سے یو این ڈی پی کا کردار لائق تحسین ہے۔ ہمارا ڈونر جرمن حکومت ہے لہٰذا جرمنی اپنے فلسفیانہ ورثے کے باعث دونوں آفاقی نظریات بہتر سمجھنے اور عملی حل پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں* کوئٹہ15جون: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ کلائمیٹ چینج ایک عالمی مسئلہ ہے لہٰذا اس کا حل بھی عالمی ہونا چاہیے کیونکہ سیارہ زمین ہی پوری کائنات میں تمام انسانوں کا واحد مشترکہ گھر ہے۔ کلائمیٹ سیکورٹی اور پالیسی ڈائیلاگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ انہیں تمام متعلقہ محکموں، مقامی حکام، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ آج کے مکالمہ سے ہمارے پالیسی میکرز کو مدد اور رہنمائی ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ سرینا ہوٹل میں یو این ڈی پی کے زیر اہتمام بلوچستان میں کلائمیٹ سیکورٹی پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ریزیڈنٹ ریپریزٹیٹو آف یو این ڈی پی پاکستان (Dr. Samuel Risk) ڈپٹی ریپریزٹیٹو (Ms. Van Nyegum ), اعزازی قونصل جنرل میر مراد بلوچ، صوبائی وزیر میرعاصم کرد گیلو، سردار عبدالرحمن کھتران، راحیلہ حمید خان درانی، رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، ہو این ڈی پی کے صوبائی ہیڈ ذوالفقار درانی، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، سابق سینیٹر روشن خورشید ںروچہ اور ایڈوکیٹ زرغونہ بڑیچ سمیت متعدد ماہرین اور مہمانان گرامی موجود تھے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ک بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ گوادر سے لیکر ژوب تک ہم موسمیاتی بحرانوں کی فرنٹ لائن پر ہیں۔ ماحولیاتی تناؤ، گورننس اور سماجی استحکام کیلئے خطرات کو بڑھا رہا ہے۔ صرف 2022 میں، ژوب ڈویژن میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے تقریباً 40 فیصد درختوں کو متاثر کیا جب کہ بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے صوبے بھر میں 1.3 ملین سے زائد افراد کو بے گھر کیا اور ملک بھر میں 9 ملین سے زائد افراد کو غربت کی طرف دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں سے 7 فیصد سے زیادہ بلوچستان میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ چینج سے متعلق قدرتی آفات سے متاثر ہونے والی کمیونٹیز کے ساتھ UNDP کا کردار لائق تحسین ہے بشمول ہاؤسنگ کی تعمیر نو اور بحالی کی امداد کے ساتھ ساتھ اس کے ذریعہ معاش اور عوامی اداروں کے ساتھ تعمیری مکالمے کے ذریعے آب و ہوا کے خطرے سے دوچار کمیونٹیز کی مدد و رہنمائی کی ہے۔ ایسی کوششوں کو دیکھنا حوصلہ افزا ہے جو شہریوں کو مکالمے، ثالثی اور شکایات کے ازالے کے ذریعے اپنے خدشات کو اٹھانے میں مدد کرتے ہیں جبکہ حکومتی اداروں کو ان طریقوں سے جواب دینے میں مدد دیتے ہیں جو اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں، رابطہ کاری کو بہتر بناتے ہیں اور بڑے پیمانے پر عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بلوچستان اپنے منفرد جغرافیہ پہاڑوں، صحراؤں، معدنی وسائل اور ایک طویل ساحلی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہاں کے لوگ نسلوں سے مشکل ماحولیاتی حالات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ریزیلنس کو ایک نظریہ کے طور پر نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ایک حصے کے طور پر سمجھتے ہیں۔ اسلئے بلوچستان کو ایسی شراکت داری کی ضرورت ہے جو عملی اور ہمارے معروضی حالات پر مبنی ہوں۔ بحیثیت چانسلر آف پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں ہر وائس چانسلر اور اپنی گورنر ہاؤس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ اپنے کام کو عملی طور پر مرتب کریں۔ بلوچستان میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں۔ ہماری ساحلی پٹی، دریا، جنگلات، قدرتی وسائل، نوجوان آبادی، پبلک سیکٹر کی یونیورسٹیاں اور سب سے بڑھ کر ہمارے لوگوں کی ریزیلنس یہ سب بڑی طاقتیں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماحولیاتی دباؤ زیادہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ پانی کی کمی، خشک سالی، جنگلات کی کٹائی، زمین کی کٹائی اور ساحلی کشیدگی صوبے بھر میں زندگی اور معاش دونوں کو متاثر کر رہی ہے۔ گوادر اور مکران کی ساحلی پٹی

About