@khana0159: جملہ طنزیہ اور تنقیدی انداز میں کہا گیا ہے۔ اس کا مقصد اُن لوگوں پر تنقید کرنا ہے جو بظاہر دین داری یا نیکی کا اظہار کرتے ہیں، مگر ان کی کمائی یا اعمال ناجائز اور حرام ہوتے ہیں۔ سادہ تشریح: “حرام کی کمائی سے بلڈنگ بنانا” یعنی ناجائز طریقوں، رشوت، دھوکے یا ظلم سے دولت اکٹھی کرنا۔ “ماشاءاللہ کی تختی لگانا” یعنی اوپر سے مذہبی یا نیک ہونے کا تاثر دینا۔ آخر میں “شیطان بھی سوچتا ہوگا…” ایک مبالغہ ہے، جس سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایسا شخص ریاکاری اور منافقت میں حد سے آگے نکل گیا۔ یعنی: صرف مذہبی الفاظ یا ظاہری دین داری کافی نہیں، اصل اہمیت حلال رزق، سچائی اور نیک کردار کی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حلال کمائی کو بہت اہم سمجھا گیا ہے، اور ریاکاری (دکھاوا) کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ جملہ انہی باتوں کو سخت اور طنزیہ انداز میں بیان کرتا ہے۔ #fyp #foryoupage #viralvideo #100k #foryou