اپنی تو زندگی کٹتی ہے فٹ پاتھ پہ اونچے اونچے یہ محل اپنے ہیں کس کام کے ہم کو تو ماں باپ کے کیسی لگتی ہے سڑک کوئی بھی اپنا نہیں رشتے ہیں بس نام کے اپنے جو ساتھ ہے یہ اندھیری رات ہے اپنے جو ساتھ ہے یہ اندھیری رات ہے اپنا نہیں ہے اجالا اب تک اسی میں ہے پالا