وقت
گھوڑے سے رفتار
تلوار سے دھار
شیر سے دھاڑ
عقاب سے آنکھ چھین لیتا ہے
یہ برگد کی داڑھی پہ سفیدی کر دیتا ہے
اس کی آمد سے پیپل کانپ جاتا ہے
یہ ہاتھی کی کھال
مور کی چال
سںب لے جاتا ہے ۔
کئی سال بعد !
تیرے ماتھے پہ شکنیں ہوں گی
کئی راتوں کی ان کہی کہانی ہوگی
کئی رسموں کی سوختنی قربانی ہوگی ۔
چہرے پہ وقت کا ہل، چل چکا ہوں گا
جوبن ڈھل چکا ہوگا
یہ کھیل ایک پل ہے
یہ سب مایا چھل ہے
اب میں آشوب آگہی سے تنگ
تیرے لمس کی راہداری میں گم ہونے کو ہوں۔
یہ کیا شورش ایام ہے
بس اک ساعت کا دوام ہے
2026-05-24 12:25:10
1
Shahid Chishti :
🥰🥰🥰
2026-06-22 15:25:05
0
Anwar jan :
👍🌹😳
2026-06-20 15:23:10
0
Nadeem Jutt🌹🇵🇰🇵🇰🌹 :
💗👁️💗💞💞💞💞💞💞💞💕
2026-06-06 05:46:38
1
ShariQ Abbasi,🇬🇧🇵🇰 :
🥰🥰🥰
2026-06-20 11:10:52
0
Zahid Mehmood :
❤️❤️❤️
2026-06-06 03:45:10
1
🐅🐅 :
🤲🤲🤲
2026-06-28 22:33:43
0
To see more videos from user @pak780_2, please go to the Tikwm
homepage.