*حضرت فاطمہؑ حضرت ابوبکرؓ کے پاس اپنا حق لینے گئیں تھیں*۔ یہ واقعہ شیعہ سنی دونوں کی معتبر کتابوں میں موجود ہے۔
*واقعہ کیا تھا؟*
یہ *باغِ فدک* کا معاملہ تھا۔ فدک خیبر کے قریب ایک باغ تھا جو صلح کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ملا تھا۔ حضرت فاطمہؑ کا دعویٰ تھا کہ نبی ﷺ نے اپنی زندگی میں یہ باغ انہیں ہبہ کر دیا تھا، یا وراثت میں ان کا حق ہے۔
*حضرت ابوبکرؓ کا جواب:*
حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے:
_"ہم انبیاء کا گروہ وراثت نہیں چھوڑتا، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے"_
*صحیح بخاری: 3093، صحیح مسلم: 1759*
اس حدیث کی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی ذاتی جائیداد وراثت میں تقسیم نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ مسلمانوں کے بیت المال میں صدقہ کے طور پر رہے گی۔ البتہ آپ نے وعدہ کیا کہ جس طرح نبی ﷺ اس باغ کی آمدنی کو استعمال کرتے تھے، میں بھی اسی طرح اہلِ بیت پر خرچ کروں گا۔
*نتیجہ:*
حضرت فاطمہؑ اس فیصلے سے راضی نہ ہوئیں اور 6 ماہ بعد وصال تک حضرت ابوبکرؓ سے ناراض رہیں۔ لیکن حضرت علیؓ نے اپنی خلافت کے دور میں بھی فدک کا فیصلہ نہیں بدلا، اور یہ باغ بیت المال میں ہی رہا۔
*خلاصہ:* جی ہاں، حضرت فاطمہؑ حق لینے گئیں تھیں، مگر حضرت ابوبکرؓ نے حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں وراثت دینے سے معذرت کر لی۔
2026-05-26 02:27:39
0
Aqeel Haider :
koi logic he ni😂😂
2026-05-21 11:49:37
0
To see more videos from user @qalabraza1214, please go to the Tikwm
homepage.