Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@l.th.hip547:
LuYsN 1202
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 21 May 2026 09:04:40 GMT
122578
2021
188
1203
Music
Download
No Watermark .mp4 (
5.91MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
5.91MB
)
Watermark .mp4 (
6.44MB
)
Music .mp3
Comments
🌪Văn Công ✅ :
Chia bột ngô ko điều 🥰
2026-05-22 07:33:11
83
Bố các trẻ🥷 :
tốn tiền quyên góp của t quá
2026-06-04 18:27:14
6
️thanh tú :
mất tiền nhiều
2026-05-28 23:20:36
7
Nguyễn Đăng :
bột ngô là sao 🗿 hỏi ngu tí
2026-06-05 07:30:46
0
ᴄᴀᴛ-ʟᴇɢᴇɴᴅᥫ᭡ :
Tại chia bột mì ko đều ấy mà🥰
2026-05-29 04:01:41
7
you can do it!❤️🔥 :
chia bột ngô k đều à
2026-06-06 15:48:04
0
dat :
bột ngô vỡ trận
2026-06-04 06:59:29
5
. :
người trong video là anh nhé
2026-05-29 04:55:04
4
Thần bom hàng☝️👽 :
vụ j thế chị
2026-05-29 06:31:06
1
𝙩𝙝𝙞𝙣𝙝𝙢𝙞𝙣𝙝𝙤𝙣🥀 :
bt v dell quyên góp để mua bánh ăn cho ngon
2026-06-09 10:06:08
0
TVH_68 :
tự tin 1 va hết
2026-05-28 06:16:26
2
va. :
2026-05-28 14:04:22
4
Anh socola :
2026-05-28 14:11:06
2
『nợ viettel 36k』 :
lm j vậy mn
2026-05-29 05:26:53
2
Lê Thanh Đạt⚽🥅🏴 :
là sao
2026-06-03 08:30:47
1
To see more videos from user @l.th.hip547, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
شعجب انتي متزوجه واحد 😂😂😂
#kasachstan🇰🇿 #pavlodar🇰🇿
Cara membuat jus jambu bahan-bahan: -3 buah jambu biji -5 sampai 7 sdm gula pasir -500-1000 ml air mineral cara membuat: 1. Cuci bersih jambu biji, lalu potong-potong sedang dalam blender, masukan jambu, gula pasir dan 500 mlt air minum 2. Blender sampai halus, kemudian tambahkan lagi sisa air(1000 ml) blender lagi sebentar,matikan,kemudian saring 3. Ambil gelas masukan jus jambu secukupnya, tambahkan susu kental manis dan es batu 4. Jus siap disajikan #LokaalLq #LokaalGuava #oxva ymwv855y
پاکستان کے خلاف ہونے والی حالیہ پیش رفت کو اگر محض وقتی واقعات، سرحدی جھڑپوں یا سفارتی بیانات تک محدود کر کے دیکھا جائے تو یہ ایک سنگین فکری غلطی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک طویل، منظم اور کثیر الجہتی عالمی منصوبے کا حصہ ہے، جس کی بنیاد کئی دہائیاں پہلے رکھی جا چکی تھی۔ پاکستان کو کبھی ایک آزاد، خودمختار اور نظریاتی ریاست کے طور پر قبول نہیں کیا گیا، بلکہ ہمیشہ اسے ایک عارضی، دباؤ میں رہنے والی اور ضرورت پڑنے پر استعمال ہونے والی ریاست سمجھا گیا۔ یہی وہ بنیادی غلط فہمی تھی جس نے آج کی صورتحال کو جنم دیا۔ سب سے پہلے پاکستان کو بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی۔ اس منصوبے کی ظاہری شکل یہ تھی کہ دونوں ممالک کا معاملہ ہے، جیسا کہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کہا کہ “یہ بھارت اور پاکستان کا آپس کا معاملہ ہے۔” مگر حقیقت میں یہ ایک بین الاقوامی طور پر سپورٹڈ اسٹریٹجک اقدام تھا، جس میں بھارت کو نہ صرف سفارتی چھوٹ دی گئی بلکہ انٹیلی جنس، میڈیا اور بیانیہ سازی کی مکمل پشت پناہی بھی فراہم کی گئی۔ اس اسکرپٹ کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بھارت محدود عسکری کارروائی کرے گا، پاکستان روایتی دباؤ کے تحت تحمل دکھائے گا، عالمی میڈیا بھارت کے مؤقف کو غالب رکھے گا، اور یوں پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جائے گا جو دفاعی پوزیشن میں ہے، خوف زدہ ہے، اور جسے مزید دبایا جا سکتا ہے۔ مگر یہاں کھیل الٹ گیا۔ پاکستان نے وہ راستہ اختیار کیا جو طے شدہ عالمی اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ مؤثر ردِعمل، سفارتی اعتماد، عسکری توازن اور اندرونی یکجہتی—یہ سب وہ عناصر تھے جن کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ بھارت کو یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان خاموش رہے گا، مگر جب پاکستان نے اللہ کی مدد سے نہ صرف جواب دیا بلکہ ایسا جواب دیا جس نے طاقت کا توازن واضح کر دیا، تو مودی سرکار بوکھلا اٹھی۔ اسی بوکھلاہٹ میں وہ بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ پاکستان نے حملہ کیا ہے، حالانکہ زمینی اور تکنیکی شواہد اس دعوے کی نفی کرتے رہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب عالمی طاقتوں کو یہ احساس ہوا کہ پاکستان اب محض ایک ردعمل دینے والی ریاست نہیں رہا بلکہ اپنی سرخ لکیروں سے بخوبی واقف ہے۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں بھارت کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی۔ اس ناکامی کے بعد فوراً اگلا محاذ فعال کیا گیا—مغربی سرحد۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ کوئی نیا نہیں تھا۔ یہ ایک پرانا، آزمودہ اور بارہا دہرایا گیا ماڈل تھا۔ افغانستان کو عدم استحکام کا شکار رکھنا، وہاں ایسی قوتوں کو پروان چڑھانا جو پاکستان کے لیے مسائل پیدا کریں، اور پھر ان عناصر کو سرحد پار دھکیلنا—یہ سب برسوں سے جاری ایک منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر مسلح گروہوں کی فنڈنگ، تربیت اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود رہیں۔ یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا تھا۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو پاکستان کو ایک بار پھر فرنٹ لائن اسٹیٹ بنا دیا گیا۔ اربوں ڈالر کی امداد، وعدے، اور اسٹریٹجک شراکت داری کے دعوے کیے گئے، مگر اس کے بدلے پاکستان کو ایسی جنگ میں دھکیلا گیا جس کا اصل فائدہ کسی اور نے اٹھایا۔ ستر ہزار سے زائد پاکستانی جانوں کی قربانی، معیشت کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان، سماجی ڈھانچے کی بربادی، اور ریاستی اداروں پر بڑھتا ہوا عدم اعتماد یہ سب اسی فرنٹ لائن کردار کی قیمت تھی۔ مگر اس تمام تر نقصان کے باوجود پاکستان مکمل طور پر ٹوٹ نہ سکا، اور یہی بات ان قوتوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزری۔ افغانستان سے انخلا کے وقت اربوں ڈالر مالیت کا جدید امریکی اسلحہ “غلطی سے” پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک لاجسٹک ناکامی تھی، مگر درحقیقت یہ اسی بڑے کھیل کا حصہ تھا۔ یہ اسلحہ بعد ازاں انہی عناصر کے ہاتھ لگا جو پاکستان کے خلاف سرگرم رہے۔ جدید رائفلیں، نائٹ وژن آلات، کمیونیکیشن سسٹمز یہ سب اتفاقاً نہیں چھوڑا گیا تھا۔ اسی دوران پاکستان کے اندرونی محاذ کو بھی کمزور کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ سیاسی اختلافات کو ہوا دی گئی، لسانی اور مسلکی تقسیم کو ابھارا گیا، اور میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا گیا۔ نوجوان نسل کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی ادارے ان کے مسائل کی جڑ ہیں، کہ حب الوطنی ایک فرسودہ تصور ہے، اور کہ نظریۂ پاکستان محض ایک بوجھ ہے۔ یہ ایک مکمل نفسیاتی جنگ تھی، جس کا مقصد میدانِ جنگ میں فتح نہیں بلکہ ذہنوں کی شکست تھا۔ این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر چلنے والی تنظیمیں، اور بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے میڈیا پلیٹ فارمز اس جنگ کا حصہ بنے۔ مقصد واضح تھا: پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا تاکہ بیرونی دباؤ مؤثر ہو سکے۔#foryo
@Neshnesh show @Solomon☎️ 🏋️🤩💪 #tigraytiktok🇻🇳🇻🇳tigraytiktok #eritreantiktok🇪🇷🇪🇷habesha #ethiopian_tik_tok🇪🇹🇪🇹🇪🇹🇪🇹
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy