@hafeez:تجھے میری اہمیت شاید اس لیے کبھی محسوس نہ ہو سکی کیونکہ میں نے ہمیشہ خود کو تمہارے لیے حاضر رکھا۔ میں نے کبھی اپنی محبت کو فاصلے میں نہیں بدلا کبھی خاموشی کو سزا نہیں بنایا، کبھی اپنی موجودگی کو تم پر بوجھ نہیں ہونے دیا۔ تم نے جب بھی پلٹ کر دیکھا، مجھے وہیں پایا جہاں تم چھوڑ کر گئے تھے اسی انتظار میں اسی خلوص کے ساتھ اسی یقین کے ساتھ کہ شاید ایک دن تم سمجھو گے کہ جو انسان ہمیشہ ساتھ کھڑا رہے، وہ معمولی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبت کو اتنا عام بنا دیتا ہے کہ سامنے والا اسے حق سمجھنے لگتا ہے، احساس نہیں۔ شاید اگر میں بھی کبھی بے رخی اختیار کرتا، کبھی تمہاری پکار پر خاموش رہتا کبھی اپنی توجہ واپس کھینچ لیتا تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ کسی کے مسلسل ساتھ رہنے میں کتنی محبت چھپی ہوتی ہے۔ مگر میں نے تو چاہا کہ تمہاری زندگی میں آسانی رہوں، سکون رہوں ایک ایسا نام رہوں جو تمہیں کبھی تنہا محسوس نہ ہونے
دے۔ اور یہی مسلسل موجودگی میری اہمیت کو تمہاری نظر میں معمول بنا گئی۔ بعض اوقات جو لوگ سب سے زیادہ مخلص ہوتے ہیں، انہی کی قدر سب سے دیر سے سمجھ آتی ہے، کیونکہ وہ کبھی شکایت نہیں کرتے، صرف نبھاتے رہتے ہیں۔
دل کو دکھ تب ہوتا ہے جب احساس ہو کہ جس کے لیے دل نے ہر لمحہ خلوص رکھا، اسے کبھی یہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی کہ اس خلوص کی قیمت کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہمیشہ قریب رہنے والے لوگوں کی اہمیت اکثر دور ہونے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ جب آوازیں خاموش ہو جائیں، جب انتظار ختم ہو جائے، جب کوئی بنا کے پیچھے ہٹ جائے، تب دل کو معلوم ہوتا ہے کہ جو
ہمیشہ موجود تھا ، وہ کتنا قیمتی تھا۔