@ubaid.typist65: کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایسے داخل ہوتے ہیں جیسے بہار کی پہلی ہوا، نرم، خوبصورت اور دل کو سکون دینے والے۔ ہم اُن پر یقین کرتے ہیں، اُن کے لفظوں کو سچ مانتے ہیں اور اپنے دل کے دروازے اُن کے لیے کھول دیتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب اُن کے رویّے بدلتے ہیں تو انسان خاموشی سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ سب سے زیادہ درد تب نہیں ہوتا جب کوئی چھوڑ کر چلا جائے، بلکہ تب ہوتا ہے جب وہی شخص بدل جائے جس پر ہمیں سب سے زیادہ مان تھا۔ کچھ لوگ معافی مانگ لیتے ہیں مگر اُن کے رویّے کبھی معافی نہیں مانگتے۔ وہ انسان کو زندہ تو چھوڑ دیتے ہیں مگر اُس کے اندر کی خوشیاں، اعتماد اور سکون آہستہ آہستہ دفن کر دیتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اپنے رویّوں کی وجہ سے کچھ لوگ ہمارے سینے میں بنا کفن کے دفن ہوتے ہیں۔ نہ اُن کے لیے نفرت ختم ہوتی ہے اور نہ ہی محبت پوری طرح مر پاتی ہے۔ وہ یادوں کی صورت ہمیشہ دل کے کسی اندھیرے کونے میں زندہ رہتے ہیں۔ زندگی میں ہر زخم نظر نہیں آتا۔ کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف محسوس کی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ چیخ کر نہیں روتے، وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ اُن کی ہنسی پہلے جیسی رہتی ہے مگر دل پہلے جیسا نہیں رہتا۔ وجہ صرف ایک ہوتی ہے… لوگوں کے رویّے۔ الفاظ اکثر بھلا دیے جاتے ہیں مگر رویّے ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ کسی کا اندازِ نظر انداز کرنا، بات کرتے ہوئے سرد لہجہ، یا ضرورت کے وقت ساتھ نہ دینا انسان کے اندر ایسی جگہ چوٹ لگاتا ہے جہاں مرہم بھی اثر نہیں کرتا۔ پھر وہی لوگ ہمارے دل میں زندہ لاش بن کر رہ جاتے ہیں۔ نہ اُنہیں بھلایا جاتا ہے، نہ اُنہیں دوبارہ اپنایا جاتا ہے۔ اپنے رویّوں کی وجہ سے کچھ لوگ ہمارے سینے میں بنا کفن کے دفن ہیں۔ وہ زندہ ہیں، کہیں نہ کہیں خوش بھی ہوں گے، مگر ہمارے اندر اُن کی ایک خاموش قبر موجود ہے، جہاں ہم روز تھوڑا تھوڑا دفن ہوتے رہتے ہیں۔ ہر انسان محبت کے قابل ہوتا ہے، مگر ہر انسان محبت نبھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ رشتوں کی قدر اُس وقت تک کرتے ہیں جب تک اُنہیں ہماری ضرورت ہوتی ہے۔ پھر اچانک اُن کے لہجے بدل جاتے ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں اور ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر قصور کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر ٹوٹنے والے رشتے میں غلطی محبت کی نہیں ہوتی، کبھی کبھی لوگوں کے رویّے محبت کو مار دیتے ہیں۔ دل عجیب چیز ہے، یہ اُن لوگوں کو بھی بھول نہیں پاتا جنہوں نے سب سے زیادہ تکلیف دی ہو۔ شاید اسی لیے کچھ لوگ ہمارے سینے میں بنا کفن کے دفن رہتے ہیں۔ نہ اُن کے لیے فاتحہ پڑھی جاتی ہے اور نہ اُنہیں مکمل طور پر رخصت کیا جاتا ہے۔ وہ ہماری خاموشیوں، اداس راتوں اور بدلتے مزاج میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے مگر کچھ رویّے انسان کی روح پر ایسے نقش چھوڑ جاتے ہیں جو عمر بھر نہیں مٹتے۔ #ubaidtypist65 #foryoupage