@talkh_haqiqat: آج کل کے دور میں لوگ سچ تو بولتے ہیں، مگر صرف اسی حد تک جتنا ان کے اپنے مفاد میں ہو۔ یہ ایک تلخ معاشرتی حقیقت ہے کہ اب سچائی کا معیار ضمیر کی آواز نہیں بلکہ ذاتی فائدہ بن چکا ہے۔ جیسے ہی سچ بولنے سے کسی کا اپنا نقصان ہونے لگے یا بات ان کی اپنی ذات پر آئے، وہاں وہ پورا سچ چھپا جاتے ہیں اور بڑی صفائی سے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا پلو بدل لیتے ہیں۔#haqiqat___🥺🥀💔 #kashi_ki_baten