@sx39039: #HonkaiStarRail #mmd

來個歐潤吉
來個歐潤吉
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 23 May 2026 16:52:25 GMT
59556
12923
108
1143

Music

Download

Comments

mr_villainess
Mr_Villainess :
🥰🥰💕💕
2026-05-23 20:57:27
39
_spider_man_ps4_
𝔪𝔦𝔨𝔢🎮 :
What is this trend?
2026-05-24 07:56:14
5
bill_cipher471
𝗕𝗜𝗟𝗟 𝗖𝗜𝗣𝗛𝗘𝗥 :
2026-05-25 09:31:10
14
nnnamelesss
ZEROFORS :
2026-05-23 21:39:17
7
j3lli3d_eel3ktr0ss
Eelektross ⚡️ :
song name?
2026-05-26 15:17:26
0
shakhxaa
Шахзод 😇 :
осеменить
2026-05-24 01:37:26
4
strikegunzserver
Strike GunZ :
oyA
2026-07-07 23:49:57
1
mr_villainess
Mr_Villainess :
🥰🥰💕💕💕😋😋
2026-05-23 20:57:54
14
chiyo7954
CharBeat v2 :
wife 😋🥰
2026-05-23 22:48:06
2
1muzan_kibutsuji3
colum_bus :
felizmente la saqué en mis dos cuentas gracias padre honkai por buenas recompensas
2026-05-24 12:30:00
1
To see more videos from user @sx39039, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے:
آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے: "بس بہت ہوگیا… پہلے آ کر روٹی کھا لو!" مگر اب نہ وہ بچپن واپس آئے گا، نہ وہ دن… بس رہ جائیں گی تو چند دھندلی یادیں… جو ہر اگست میں دل کی آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔ اے اللہ! ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھ، اور ہمارے بچوں کو بھی وہی محبتِ وطن نصیب فرما جو کبھی ہمارے بچپن کی پہچان تھی۔ 🇵🇰 #fyppppppppppppppppppppppp #deepthoughts #viral #dontunderreviewmyvideo #fypシ゚viral

About