@aliafzalchughtai: جموں کشمیر کا گمشدہ ترانہ 1952 میں جموں کشمیر کی اسمبلی میں یہ ترانا پڑھا گیا تھا۔یہ ترانہ مولانا مسعودی نے لکھا تھا "لہرا اے کشمیر کے جھنڈے ہل والے دلگیر کے جھنڈے ہر دم لہرا، ہر سو لہرا تا قیامت پایم لہرا" مگر یہ ترانہ صرف 14 ماہ چلا تھا 1953 میں شیخ عبداللہ گرفتار ہوئے اور یہ ترانہ بھی خاموش ہو گیا۔ اور 2019 میں جب 35A اور 370 ختم گیا تو وہ سرخ جھنڈا بھی اتار دیا گیا جس کے لیے یہ ترانہ لکھا گیا تھا۔ "تا قیامت پایم لہرا" مگر قیامت سے پہلے ہی اتار دیا گیا۔ 🤍