@zouq.e.iishq.official: وہ جو کبھی اپنے باپ کے آنگن کی چڑیا تھی، وہ جو ماں کی آنکھوں کا تارا اور لاڈلی شہزادی تھی، وہ بیٹی دیکھتے ہی دیکھتے جوان ہو گئی، اور ایک دن پرائے دیس جانے کی گھڑی آ پہنچی۔ ماں باپ نے اپنے جگر کا ٹکڑا، اپنی برسوں کی محبت ہنستے ہنستے کسی اور کے نام کر دی۔ رخصتی کے وقت باپ کا وہ لرزتا ہوا ہاتھ، اور ماں کی وہ سسکیاں گواہ تھیں کہ انہوں نے اپنی دنیا لٹا دی۔ وہ لڑکی اپنے سارے مان، اپنی ساری خواہشیں اور بچپن کے ناز نخرے میکے کی دہلیز پر ہی چھوڑ آئی، اس امید پر کہ اب سسرال ہی اس کا نیا جہاں ہے اور وہاں اسے پلکوں پر بٹھایا جائے گا۔ لیکن افسوس! سسرال کی چمکتی ہوئی دیواروں کے پیچھے اس کے ارمانوں کا گلا گھونٹ دیا گیا، جہاں ہر بات پر اسے پرکھا گیا اور جہاں اس کی ہر قربانی کو صرف ایک فرض سمجھ کر پامال کیا گیا۔ وہ سکھ جس کی خاطر اس نے اپنا ہر خون کا رشتہ چھوڑا، وہ اسے سسرال کے کسی کونے میں بھی نہ ملا۔ بات تو تب دل کو چیر گئی جب اس شخص نے بھی منہ موڑ لیا جس کے نام پر وہ اپنی پوری کائنات ہار آئی تھی۔ وہ شوہر، جو اس کا سب سے بڑا مان اور محافظ تھا، وہی اب بات بات پر طعنے دینے لگا۔ "تم لائی ہی کیا ہو؟"، "تمہارے ماں باپ نے تمہیں سکھایا ہی کیا ہے؟"—یہ وہ لفظ ہیں جو روز خنجر بن کر اس کی روح میں اترتے ہیں۔ جس لڑکی نے اپنے ماں باپ کے گھر کبھی اونچی آواز نہیں سنی تھی، وہ اب روز محبت کے نام پر ذلت سہتی ہے۔ شوہر کے طعنے عورت کی کمر توڑ دیتے ہیں، کیونکہ وہ دنیا سے تو لڑ سکتی ہے مگر اپنے ہی ہمسفر سے کیسے لڑے؟ وہ راتوں کو تکیے میں منہ چھپا کر روتی ہے تاکہ اس کی سسکیوں کی آواز کمرے سے باہر نہ جائے اور آئینہ بھی اب اس کے اداس چہرے کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ کہاں گئی وہ ہنستی مسکراتی ہوئی شہزادی؟ اب نہ وہ میکے کی رہی کیونکہ وہاں اب وہ صرف ایک "مہمان" ہے، اور نہ سسرال نے اسے کبھی دل سے اپنایا۔ عورت کی زندگی کا یہ وہ المیہ ہے جہاں وہ جیتے جی ایک خاموش لاش بن کر رہ جاتی ہے۔ ماں باپ سمجھتے ہیں کہ بیٹی اپنے گھر میں راج کر رہی ہے، اور بیٹی ان کے مان اور عزت کی خاطر اپنا ہر زخم چھپا کر مسکرا دیتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بیٹیاں شہزادیاں بن کر ہی پلتی ہیں، مگر سسرال کے دکھ اور شوہر کے طعنوں کے آگے وہ جیتے جی مر جاتی ہیں۔۔۔۔تحریر زوق عشق #zouqeishqofficial #foryou #foryoupage #viral #fyp