@bedauriview1: Mấy bà dùng thử chưa ??? Dùng thử đi chân ái thật sự luôn mí bà nay seo á#kemlamhong #venuspink #laroma #trending #LearnOnTikTok @Đồ xinh nhà dâu @Đồ xinh nhà dâu @Đồ xinh nhà dâu

Đồ xinh nhà dâu
Đồ xinh nhà dâu
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 24 May 2026 06:33:46 GMT
751
142
149
31

Music

Download

Comments

..hoben
Quỳnh phương :
Đã chốt đơn rồi shop ạ
2026-05-24 08:33:35
1
miaodangunbox
Miao đang unbox ᶻ 𝗓 𐰁 .ᐟ :
đã sài và siu mê 😆
2026-05-24 07:57:16
1
trangiuorder
Huyen Trang🎀 :
Ưng ta
2026-05-24 07:39:46
1
e.tienne
e tiên nè :
hay nha
2026-05-24 07:00:13
1
baongocshopr
baongocshopr :
Kem hồng xài là đẹp,chân ái của t đó mấy bà
2026-05-24 07:56:50
1
tiemnhatrinh_kenh2
Trinh Trinh :
Dưỡng hồng hiệu quả
2026-05-24 08:06:04
1
dsanhnguyen
Ds Anh Nguyên 84 :
Xài hồng xinh ưng lắm nè
2026-05-24 08:22:36
1
kimnhung1414
Kim Nhung (mẹ bé Hý👧🏻) :
Xài cải thiện hẳn nha
2026-05-24 07:36:21
1
luutheu0209
Ds Tthu 'ss' :
Gửi m với ạ
2026-05-24 07:44:02
1
huonghuong37002
Hương Rì Viu 🍊 :
Mê nha
2026-05-24 09:37:22
1
yeuyeuriviu
✨Yêu Yêu riviu✨ :
Tui dùng rồi dùng mê à
2026-05-24 07:27:59
1
khnh.an333
Nấm Shop Online :
xàii ưng lắm các bà ơi
2026-05-24 08:21:40
1
cici.say.hi
Cici say hi :
Dùng ưng lun
2026-05-24 07:25:55
1
b.ngoc_32
Bích Ngọc 🌼 :
Sản phẩm ok
2026-05-24 06:52:58
1
hng.vu40
Hằng vu :
dùng thích lắm
2026-05-24 07:14:56
1
traneii19
Traneii Babiee🧸 :
Dùng hiệu quae
2026-05-24 07:32:29
1
thnh.nguyen90
T90 shop :
Đã mua nha shop ơi
2026-05-24 07:38:25
1
nhunghuynh581
NhungHuynh581 :
dùng thích nha
2026-05-24 07:05:34
1
t.nguyn827
Shop Tú Nguyên :
Sài là xinh
2026-05-24 07:40:53
1
tieumyy27
Mee :
Ưng nha
2026-05-24 07:45:18
1
cuahangmini0
cửa hàng mini :
đặt hàng nhé sop
2026-05-24 07:49:33
1
minn.store0
Min Minn nè :
Kem dùng xịn lắm nha shop ưng lắm nha
2026-05-24 07:01:25
1
ban.hangtiepthilienket
Loan Miền Tây :
dùng ưng lắm chị ơi
2026-05-24 06:45:54
1
aniki_97
𝘼𝒏𝒊𝒌𝒊𝒊 🍀 :
Mê nha
2026-05-24 07:05:02
1
may_riviu0
𝕄Â𝕐 ⛅️ :
Dùng tốt thích lém lun
2026-05-24 07:32:04
1
To see more videos from user @bedauriview1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر تاریخ کا احترام اس سے بھی بڑا اصول ہے۔ اگر آپ واقعی قائداعظم محمد علی جناح کے سیاسی ورثے کے امین ہیں تو آپ کو  قائد اعظم کے الفاظ کو بھی اسی دیانت داری سے قبول کرنا ہوگا جس احترام سے  آپ ان کی شخصیت کو یاد کرتے ہیں۔ 17 جون 1947 کو قائداعظم نے واضح کیا تھا کہ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد تمام ریاستیں، بشمول جموں و کشمیر، قانونی طور پر آزاد اور خودمختار ہوں گی، اور انہیں یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ پاکستان سے الحاق کریں، ہندوستان سے الحاق کریں یا ایک آزاد و خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپنا مستقبل خود طے کریں۔ پھر 11 جولائی 1947 کو قائداعظم نے مزید دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ مسلم لیگ کسی ریاست پر نہ دباؤ ڈالے گی، نہ دھمکائے گی، نہ مجبور کرے گی، بلکہ اگر کوئی ریاست آزاد رہنا چاہے گی تو پاکستان اس فیصلے کا بھی پورا احترام کرے گا۔ اگر یہ قائداعظم کا موقف تھا تو آج ایک آزاد اور خودمختار کشمیر کے تصور کو پاکستان دشمنی قرار دینا یا اسے رد کرنا، کم از کم تاریخی طور پر قائداعظم کے ان بیانات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مجھے عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں رانا ثناللہ کی گفتگو سن کر دکھ ہوا ہے۔  میری عاجزانہ گزارش ہے کہ مسلم لیگ اور بی جے پی دونوں اپنی دہائیوں پر محیط دوستی و دشمنی  سے ایک قدم پیچھے ہٹیں اور ایک آزاد، غیرجانبدار اور خودمختار کشمیر کے امکان کو سنجیدگی سے زیرِ غور لائیں۔ شاید یہی وہ پل ہو جو برصغیر کے دو ایٹمی ممالک کے درمیان مستقل امن، تجارت، اعتماد اور دوستی کی بنیاد بن سکے۔ جنگوں نے ہمیں کیا دیا؟ نفرت، تقسیم اور بے شمار انسانی المیے۔ اب وقت ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھا جائے۔ ایک آزاد کشمیر، بھارت اور پاکستان دونوں کی شکست نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کے امن کی مشترکہ فتح بھی ہو سکتا ہے—اگر اسے کشمیری عوام کی آزادانہ رائے اور باہمی رضامندی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ قائداعظم کے الفاظ آج بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں: “جو ریاستیں مکمل طور پر آزاد اور خودمختار رہنا پسند کریں گی، ہم ان کی اس خواہش کا پورا احترام کریں گے۔” شاید آج اسی احترام سے ایک نئی تاریخ لکھی جا سکتی ہے
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر تاریخ کا احترام اس سے بھی بڑا اصول ہے۔ اگر آپ واقعی قائداعظم محمد علی جناح کے سیاسی ورثے کے امین ہیں تو آپ کو قائد اعظم کے الفاظ کو بھی اسی دیانت داری سے قبول کرنا ہوگا جس احترام سے آپ ان کی شخصیت کو یاد کرتے ہیں۔ 17 جون 1947 کو قائداعظم نے واضح کیا تھا کہ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد تمام ریاستیں، بشمول جموں و کشمیر، قانونی طور پر آزاد اور خودمختار ہوں گی، اور انہیں یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ پاکستان سے الحاق کریں، ہندوستان سے الحاق کریں یا ایک آزاد و خودمختار ریاست کی حیثیت سے اپنا مستقبل خود طے کریں۔ پھر 11 جولائی 1947 کو قائداعظم نے مزید دوٹوک الفاظ میں فرمایا کہ مسلم لیگ کسی ریاست پر نہ دباؤ ڈالے گی، نہ دھمکائے گی، نہ مجبور کرے گی، بلکہ اگر کوئی ریاست آزاد رہنا چاہے گی تو پاکستان اس فیصلے کا بھی پورا احترام کرے گا۔ اگر یہ قائداعظم کا موقف تھا تو آج ایک آزاد اور خودمختار کشمیر کے تصور کو پاکستان دشمنی قرار دینا یا اسے رد کرنا، کم از کم تاریخی طور پر قائداعظم کے ان بیانات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مجھے عاصمہ شیرازی کے پروگرام میں رانا ثناللہ کی گفتگو سن کر دکھ ہوا ہے۔ میری عاجزانہ گزارش ہے کہ مسلم لیگ اور بی جے پی دونوں اپنی دہائیوں پر محیط دوستی و دشمنی سے ایک قدم پیچھے ہٹیں اور ایک آزاد، غیرجانبدار اور خودمختار کشمیر کے امکان کو سنجیدگی سے زیرِ غور لائیں۔ شاید یہی وہ پل ہو جو برصغیر کے دو ایٹمی ممالک کے درمیان مستقل امن، تجارت، اعتماد اور دوستی کی بنیاد بن سکے۔ جنگوں نے ہمیں کیا دیا؟ نفرت، تقسیم اور بے شمار انسانی المیے۔ اب وقت ہے کہ تاریخ سے سبق سیکھا جائے۔ ایک آزاد کشمیر، بھارت اور پاکستان دونوں کی شکست نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کے امن کی مشترکہ فتح بھی ہو سکتا ہے—اگر اسے کشمیری عوام کی آزادانہ رائے اور باہمی رضامندی کے تناظر میں دیکھا جائے۔ قائداعظم کے الفاظ آج بھی ہماری رہنمائی کرتے ہیں: “جو ریاستیں مکمل طور پر آزاد اور خودمختار رہنا پسند کریں گی، ہم ان کی اس خواہش کا پورا احترام کریں گے۔” شاید آج اسی احترام سے ایک نئی تاریخ لکھی جا سکتی ہے

About