@hue.nguyen546: Sữa hạt ngũ cốc dinh dưỡng B'fast canxi túi 20 gói

Tạp hóa nhà bối
Tạp hóa nhà bối
Open In TikTok:
Region: VN
Sunday 24 May 2026 14:01:37 GMT
2116
5
0
9

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hue.nguyen546, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس توہینِ عدالت ہے یا نہیں؟ تفصیلات پڑھئیے میری رائے کے مطابق عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس قطعی طور پر توہینِ عدالت کے زمرے میں نہیں آتی. اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح طور پر لکھا تھا کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں اُن کا میڈیکل چیک اَپ اور علاج کیا جائے اور چیک اَپ اور علاج کی پوری مدت کے دوران سیکیورٹی کے موزوں انتظامات بھی کیے جائیں. یعنی سپریم کورٹ کے اُس حکم کا عملی آغاز ہی اُس وقت ہونا تھا جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جاتا وہاں میڈیکل بورڈ تشکیل پاتا اور پھر اُن کا طبی معائنہ اور علاج شروع ہوتا.  لیکن جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو آرڈر کے صفحہ نمبر 6 پر پیراگراف نمبر 13 کی شق 8 میں دی گئی ہدایت کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ اس شق میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کی فیملی، سیاسی جماعت یا وکلاء اُن کی صحت کی حالت یا میڈیکل رپورٹس کی تفصیلات میڈیا یا عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے.  اسی طرح جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو پیراگراف 14 کی شق (a) کا اطلاق بھی نہیں ہوتا جس میں عمران خان کی سیاسی جماعت اور فیملی کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے احاطے میں کوئی عوامی اجتماع نہ ہو.  پیراگراف 14 کی شق (b) میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان سے متعلق کوئی بھی شخص اُن کی میڈیکل رپورٹس یا صحت کی حالت کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرے گا لیکن جب شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج ہی شروع نہیں ہوا تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس مخصوص شق کا اطلاق کس مرحلے پر اور کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ مزید یہ کہ آرڈر میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو اس آرڈر کے تحت فراہم کی گئی تمام سہولیات فوری طور پر واپس لے لی جائیں گی جبکہ دونوں فریقین کو یہ حق بھی دیا گیا تھا کہ اگر کوئی ایک فریق عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے تو دوسرا فریق عدالت سے رجوع کر سکتا ہے.  اب بنیادی سوال یہ ہے کہ جب عدالتی حکم پر عمل درآمد کا بنیادی اور ابتدائی مرحلہ ہی شروع نہیں ہوا یعنی عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو اُس پہلے اقدام کے بعد عائد کیے گئے حفاظتی اور انتظامی اقدامات کا اطلاق کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس توہینِ عدالت ہے یا نہیں؟ تفصیلات پڑھئیے میری رائے کے مطابق عمران خان کی بہن عظمیٰ خان اور ڈاکٹر فیصل سلطان کی پریس کانفرنس قطعی طور پر توہینِ عدالت کے زمرے میں نہیں آتی. اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں واضح طور پر لکھا تھا کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں اُن کا میڈیکل چیک اَپ اور علاج کیا جائے اور چیک اَپ اور علاج کی پوری مدت کے دوران سیکیورٹی کے موزوں انتظامات بھی کیے جائیں. یعنی سپریم کورٹ کے اُس حکم کا عملی آغاز ہی اُس وقت ہونا تھا جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جاتا وہاں میڈیکل بورڈ تشکیل پاتا اور پھر اُن کا طبی معائنہ اور علاج شروع ہوتا. لیکن جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو آرڈر کے صفحہ نمبر 6 پر پیراگراف نمبر 13 کی شق 8 میں دی گئی ہدایت کا اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟ اس شق میں کہا گیا ہے کہ آئندہ سماعت تک عمران خان کی فیملی، سیاسی جماعت یا وکلاء اُن کی صحت کی حالت یا میڈیکل رپورٹس کی تفصیلات میڈیا یا عوام کے سامنے نہیں رکھیں گے. اسی طرح جب عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو پیراگراف 14 کی شق (a) کا اطلاق بھی نہیں ہوتا جس میں عمران خان کی سیاسی جماعت اور فیملی کو یہ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے احاطے میں کوئی عوامی اجتماع نہ ہو. پیراگراف 14 کی شق (b) میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان سے متعلق کوئی بھی شخص اُن کی میڈیکل رپورٹس یا صحت کی حالت کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کرے گا لیکن جب شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج ہی شروع نہیں ہوا تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس مخصوص شق کا اطلاق کس مرحلے پر اور کس بنیاد پر کیا جائے گا؟ مزید یہ کہ آرڈر میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو اس آرڈر کے تحت فراہم کی گئی تمام سہولیات فوری طور پر واپس لے لی جائیں گی جبکہ دونوں فریقین کو یہ حق بھی دیا گیا تھا کہ اگر کوئی ایک فریق عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرے تو دوسرا فریق عدالت سے رجوع کر سکتا ہے. اب بنیادی سوال یہ ہے کہ جب عدالتی حکم پر عمل درآمد کا بنیادی اور ابتدائی مرحلہ ہی شروع نہیں ہوا یعنی عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل ہی نہیں کیا گیا تو اُس پہلے اقدام کے بعد عائد کیے گئے حفاظتی اور انتظامی اقدامات کا اطلاق کس بنیاد پر کیا جا سکتا ہے؟

About