حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی رفع یدین نہ کرنے والی حدیث کا جامع اسنادی جائزہ
جب کوئی شخص سنن ترمذی، ابو داؤد اور نسائی میں موجود حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی اس روایت کے بارے میں تحقیق کرتا ہے جس میں صرف پہلی بار رفع یدین کا ذکر ہے، تو اسے کسی مسلکی تعصب کے بغیر درج ذیل پانچ بڑے علمی حقائق کو ایک ساتھ دیکھنا چاہیے:
۱۔ سفیان ثوری کی تدلیس کا مسئلہ
اس حدیث کی سند میں امام سفیان ثوریؒ موجود ہیں، جو کہ جلیل القدر محدث ہیں لیکن ان پر 'تدلیس' کا الزام ہے۔ اصولِ حدیث کے مطابق، جب ایسا راوی "عَنْ" (سے) کہہ کر حدیث بیان کرے تو محدثین کا ایک گروہ حدیث کو ضعیف مانتا ہے، جب تک کہ وہ خود سننے کی تصریح (سماع) نہ کر دے۔
۲۔ سماع کی تصریح اور دو کتابوں کا حوالہ
دوسری طرف، علمی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ اس حدیث میں سفیان ثوری کے سماع کی تصریح موجود ہے۔ "مسند ابی یعلیٰ" (حدیث: 5301) اور "السنن الکبریٰ للبیہقی" میں سفیان ثوری کے ایک شاگرد (ابو حذیفہ) نے صاف لفظوں میں اپنے استاد سے "حَدَثَنَا" (ہم سے بیان کیا) کے الفاظ نقل کیے ہیں، جس سے بظاہر تدلیس کا شبہ ختم ہو جاتا ہے اور اسی بنیاد پر حامی علماء اور امام ترمذیؒ اسے "حسن یا صحیح" مانتے ہیں۔
۳۔ راوی (ابو حذیفہ) کے حافظے کی کمزوری
یہاں سب سے اہم اور باریک نکتہ آتا ہے جہاں آ کر یہ حدیث دوبارہ مشکوک ہو جاتی ہے۔ سماع کی یہ تصریح جس راوی نے نقل کی ہے، ان کا نام ابو حذیفہ موسیٰ بن مسعود النہدی ہے۔ محدثین کے مطابق:
وہ ایک انتہائی سچے، ایماندار اور نیک انسان تھے (ان کی نیت اور دیانت پر کوئی شک نہیں)۔
لیکن عمر کے آخری حصے میں ان کا حافظہ (ضبط) شدید کمزور ہو گیا تھا (امام ابو حاتم، دارقطنی اور ابن حجر عسقلانی نے ان کے حافظے پر کلام کیا ہے)۔
چنانچہ، جو علماء اس حدیث کو ضعیف کہتے ہیں، ان کا موقف یہ ہے کہ ابو حذیفہ نے اپنے کمزور حافظے کی وجہ سے استاد کے لفظ 'عَنْ' کو غلطی سے 'حَدَثَنَا' لکھ یا پڑھ دیا، اس لیے کتاب میں موجود ہونے کے باوجود یہ تصریح قابلِ قبول نہیں ہے۔
۴۔ یہ حدیث ایک طویل واقعے کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے
علمی انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ بھی جانا جائے کہ یہ حدیث دراصل سنن نسائی کبریٰ اور مسند احمد میں ایک طویل واقعے کا حصہ ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ لوگوں کو جمع کر کے مسجد میں صفیں سیدھی کرنے، عورتوں کو پیچھے کھڑا کرنے اور ستونوں کے بیچ صف نہ بنانے کی تعلیم دے رہے تھے۔ اس طویل حدیث کا صفوں والا حصہ تو دیگر اسناد کی وجہ سے بالکل صحیح ہے، لیکن رفع یدین نہ کرنے والا ٹکڑا صرف ابو حذیفہ نے اکیلے نقل کیا ہے، جبکہ سفیان ثوری کے باقی کسی بڑے
2026-05-28 22:18:13
2
imran :
Ali bhi ye mere jesa nashi he😛
2026-06-04 07:40:42
1
꧁༺wajid Ali༻꧂ :
ڈاکٹر مصطفى محمود لکھتے ہیں تم قبر میں ہزاروں سال تک کیا کرو گے؟ میں تمہیں ایک طریقہ بتاتا ہوں جو میرے ساتھ بہت کارآمد ثابت ہوا اور جس سے میں اپنے اللہ سے تعلق پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے لگا ہوں۔ قبر خوفناک ہے، ظاہر ہے کہ
نیک لوگوں کے علاوہ میں نے اس کے بارے میں سوچا، اور اب میری عمر 54 سال ہے، اور میں دنیا سے اور اس کی چیزوں سے تنگ آ چکا ہوں۔ اچھا تو جب میں قبر میں جا کر اکیلا رہوں گا سینکڑوں ہزاروں سال تک تو میں کیا کروں گا؟ کیا تم نے کبھی اس کا تصور کیا ہے؟ اس لیے میں نے مندرجہ ذیل طریقے پر عمل کرنا شروع کیا دیکھو میں مر جاؤں گا، اور میرے پاس ایک خالی بالکل تاریک قبر ہوگی۔ اس قبر کو سامان کی ضرورت ہوگی لہٰذا میں ہر استغفار کو تصور کرنے لگا جیسے میں اسے اپنے قبر کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ وہاں میرا انتظار کرے اور میرے تنہائی کا ساتھی بنے۔ اللہ کی قسم میں مذاق نہیں کر رہا میں نے اپنی قبر کو مکمل ڈیکوریٹ کر دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ قبر کے ایک کونے کو میں ہزاروں تسبیحات سے بھر رہا ہوں۔ یہاں میرے سر کے قریب کم از کم 300 ختم قرآن ہوں گے جو میرے لیے آرام دہ بستر کا سبب بنیں گے۔ ہر رکوع کو میں یہ تصور کر کے ادا کرتا ہوں کہ میں اسے قبر میں اپنا ذخیرہ بنا رہا ہوں۔ ہر کوئی مجھے چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلا جائے گا، اور میں اکیلا رہ جاؤں گا شاید ہزاروں سالوں تک، میرے بچے چند سالوں میں مجھے بھول چکے ہوں گے۔ لہذا مجھے قبر میں ساتھیوں، روشنیوں اور جنت کے جیسے مناظر کی ضرورت ہوگی۔ میں تسبیحات ذکر قرآن نماز اور صدقہ سب کو اپنے ساتھ تصور کرتا ہوں کہ وہ میرے دوست ہوں گے، میرے ساتھ وہاں ہنس رہے ہوں گے اور باتیں کر رہے ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا میں نے اپنے معمولات کا ایک اہم عمل بنا لیا ہے، یہ وہاں ہماری محفلوں میں بھی شامل ہوگا ٹھنڈے پانی کی طرح خوبصورت لباس کی طرح میں یہ چاہتا ہوں کہ میری قبر کی زندگی اس دنیا کی زندگی سے بھی ہزار حا درجے خوبصورت زندگی ہو.ان شاء اللّٰہ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں وہاں جا کر غیبت، چغلی حسد اور دیگر دنیاوی گناہوں کے نتیجے میں بدبو دار کپڑوں دیمک لگے فرنیچر اور سخت پتھریلے بستر کے بجائے اپنی قبر کو بہترین چیزوں سے آراستہ کروں۔ میں نے دنیا میں اپنا گھر بنانے کے لیے ساری زندگی جان توڑ محنت کی لیکن یہ گھر تو میرے ورثاء کا ہوجائے گا، اصل میں تو میری ساری محنت اپنے لیے ہے ہی نہیں، سارے فائدے تو اور لوگ اٹھائیں گے۔ تو میں نے سوچا کہ بس بہت ہوگیا ہے، مجھے اپنا گھر بنانا ہے جہاں صرف میں ہی ہوں:گا اور ایک طویل عرصہ گزارنا ہے۔ اگر میرے تمام اعمال دنیا
2026-06-02 08:18:37
1
🥰Babar Ali 💞714 :
2026-07-16 16:44:53
0
To see more videos from user @hader_edit, please go to the Tikwm
homepage.