واضح رہے کہ چکی پر گندم پسوا کر اجرت دینے کا جائز اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ گندم پسوانے سے پہلے طے کر لیں کہ میں فی ’من‘ (مثلًا) گندم پیسنے کے اتنے روپے دوں گا۔
اگر اجرت اس طرح طے کی کہ جتنی مقدار گندم کی میں پسواؤں گا اس میں سے دسواں حصہ یا بیسواں حصہ میں بطورِ اجرت دوں گا ( جیسا کہ یہ صورت بہت سی جگہوں میں رائج بھی ہے) تو اس طرح کا معاہدہ کرنے سے یہ اجارہ فاسد ہوجائے گا، کیوں کہ پیسے جانے والی گندم میں سے دسواں یا بیسواں حصہ بطورِ اجرت طے کرنا یہ ’’قفیز طحان‘‘ کے حکم میں داخل ہے، جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، یعنی ’’ اجرت من جنس العمل‘‘ ہونے (یعنی اجیر کے عمل سے حاصل ہونے والی چیز کو ہی اجرت بنانے) کی وجہ سے یہ اجارہ فاسدہ ہے؛ اس لیے کہ جو چیز فی الحال موجود نہیں، بلکہ اجیر (مزدور) کے عمل سے حاصل ہوگی، اس ہی کو اجیر کے لیے اجرت مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔ دوسری وجہ ایسے معاملہ کے فاسد ہونے کی یہ بھی ہے کہ اس میں اجرت متعین نہیں، بلکہ مجہول ہے۔
ہاں اگر اجرت شروع فی ’من‘ یا فی ’بوری‘ کے حساب سے متعین گندم وغیرہ کی مقدار طے کرلی جائے، مثلاً ایک من گندم پیسنے پر ایک سیر یا دو سیر گندم بطور اجرت طے کرلی جائے، اور یہ شرط نہ لگائی جائے کہ پیسی جانے والی گندم سے ہی مذکورہ اجرت دی جائے گی، بلکہ مطلق الفاظ میں طے کیا جائے تو یہ جائز ہے ؛ اگرچہ بعد میں اسی غلہ سے مزدوری دے دی جائے۔
2026-06-24 14:15:51
0
user473515306 :
Masha Allah Molana sb Allah dy janat darkey pa pehlay zal mo wawredel
2026-06-24 06:20:43
0
Khan Khan :
da di sa dalil shata
2026-05-27 17:04:11
0
Harder Khan typist :
👍👍👍
2026-05-28 17:49:45
0
Asad Khan :
بے دلیلہ
2026-07-02 05:55:49
0
Saleem skt :
Bs kai g
2026-05-26 21:22:13
0
Saleem skt :
Ewa pa 2 lak da aw treshr pa 12 lak dy. gade wade waye
2026-05-26 21:24:34
0
Tariq Khan :
🥰🥰🥰
2026-07-01 23:53:20
0
Amin Ulhaq Chagharzi :
❤️❤️❤️
2026-06-24 13:55:21
0
Saliman :
🥰🥰🥰
2026-06-22 00:52:33
0
Mohmand 1 :
💝💝💝
2026-05-26 18:29:56
0
To see more videos from user @ikram_ullah_0, please go to the Tikwm
homepage.