@scris.ro:

Inimă neagră 🖤
Inimă neagră 🖤
Open In TikTok:
Region: MD
Wednesday 27 May 2026 17:59:02 GMT
15184
1193
3
30

Music

Download

Comments

lenuta.dragusin
Lenuta Drăgușin :
Adevărat
2026-05-28 02:22:42
0
kevincatalin2
kevin :
adv sa smrr familia mea 🤝
2026-05-27 23:24:53
0
marius.berki4
Marius Berki :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-05-27 19:55:25
0
To see more videos from user @scris.ro, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عجیب مقام ہے یہ بھی کہ جب روح کے گھاؤ گہرے ہوں اور دل دکھ کی شدت سے بوجھل ہو جائے، تو شکایتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ انسان ہمیشہ وہیں بولتا ہے جہاں اسے سن لی جانے کی امید ہو، جہاں اسے یقین ہو کہ اس کے درد کی تڑپ کسی دوسرے کے دل میں تھرتھراہٹ پیدا کرے گی۔ لیکن جہاں سماعتیں پتھر کی ہوں اور سامنے والوں کی آنکھوں میں ہمدردی کا ایک قطرہ تک نہ ہو، وہاں لفظوں کا زیاں بھلا کیوں کیا جائے؟ زبانیں تب بند نہیں ہوتیں جب ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو، بلکہ تب خاموش ہوتی ہیں جب سامنے والا سمجھنے کی اہلیت کھو چکا ہو۔ جن لوگوں کو آپ کی آنکھوں کی نمی نظر نہ آئے جنہیں آپ کے لہجے کی تھکن محسوس نہ ہو، اور جو آپ کی سسکیوں سے بے خبر رہیں، ان سے شکوہ کرنا خود اپنی ذات کی توہین ہے۔ گلے شکوے تو اپنوں سے مان والوں سے اور احساس رکھنے والوں سے کیے جاتے ہیں۔ بے حس لوگوں کے سامنے اپنا دکھ کھول کر رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی ریگستان میں بارش کی دعا مانگنا۔ اسی لیے، جب دل ٹوٹتا ہے تو انسان لفظوں کی بستی سے ہجرت کر کے خاموشی کے جزیرے پر پناہ لے لیتا ہے۔ یہ خاموشی عاجزی نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہوتی ہے کہ اب یہاں کچھ بھی کہنا لا حاصل ہے۔ کیونکہ جہاں احساس ختم ہو جائے، وہاں ہر دلیل بر آنسو اور ہر شکایت بے معنی ہو جاتی ہے۔ #tanhduniya🌍🥺 #viralvideo
عجیب مقام ہے یہ بھی کہ جب روح کے گھاؤ گہرے ہوں اور دل دکھ کی شدت سے بوجھل ہو جائے، تو شکایتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ انسان ہمیشہ وہیں بولتا ہے جہاں اسے سن لی جانے کی امید ہو، جہاں اسے یقین ہو کہ اس کے درد کی تڑپ کسی دوسرے کے دل میں تھرتھراہٹ پیدا کرے گی۔ لیکن جہاں سماعتیں پتھر کی ہوں اور سامنے والوں کی آنکھوں میں ہمدردی کا ایک قطرہ تک نہ ہو، وہاں لفظوں کا زیاں بھلا کیوں کیا جائے؟ زبانیں تب بند نہیں ہوتیں جب ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو، بلکہ تب خاموش ہوتی ہیں جب سامنے والا سمجھنے کی اہلیت کھو چکا ہو۔ جن لوگوں کو آپ کی آنکھوں کی نمی نظر نہ آئے جنہیں آپ کے لہجے کی تھکن محسوس نہ ہو، اور جو آپ کی سسکیوں سے بے خبر رہیں، ان سے شکوہ کرنا خود اپنی ذات کی توہین ہے۔ گلے شکوے تو اپنوں سے مان والوں سے اور احساس رکھنے والوں سے کیے جاتے ہیں۔ بے حس لوگوں کے سامنے اپنا دکھ کھول کر رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی ریگستان میں بارش کی دعا مانگنا۔ اسی لیے، جب دل ٹوٹتا ہے تو انسان لفظوں کی بستی سے ہجرت کر کے خاموشی کے جزیرے پر پناہ لے لیتا ہے۔ یہ خاموشی عاجزی نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہوتی ہے کہ اب یہاں کچھ بھی کہنا لا حاصل ہے۔ کیونکہ جہاں احساس ختم ہو جائے، وہاں ہر دلیل بر آنسو اور ہر شکایت بے معنی ہو جاتی ہے۔ #tanhduniya🌍🥺 #viralvideo

About