@girlrendering: I don’t recognize myself today but nothing has changed

girlrendering
girlrendering
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 27 May 2026 21:15:04 GMT
62928
11766
53
431

Music

Download

Comments

studue
jalen :
where did you get that shirt
2026-05-27 21:32:57
65
mignonnedoll
mignonnedoll :
i love your hair! how do you ask for your haircut
2026-07-13 22:24:01
0
flowerbloomsview
Haru~🌸 :
CUTEEE
2026-07-19 20:30:20
1
ibshitt1n
ibshitt1n :
i need that shirt
2026-07-12 01:39:17
0
n3uur0nicc
nic :
holy beauty 💜
2026-06-10 08:19:10
0
kusherzen
kusherzen :
forever deity of my favorite star-magic thank you for being a gift to the universe
2026-05-28 00:17:44
0
skillissue________
TheLoneAlpha12345 :
nice limbal rings
2026-06-10 13:39:32
1
hihipedik
ebenex :
марси
2026-05-27 23:06:39
2
cakethief2002
cakethief :
cutiepie
2026-05-27 21:22:01
20
oguzok244
Oguzok8 :
красотка
2026-06-27 09:32:51
0
dashlofi
dashlofi :
2026-05-28 20:07:00
1
wlzrwll
m0n7k :
2026-07-19 23:22:06
0
libshiesty
LIBERTY LOVE :
how r u perfect
2026-05-28 00:37:55
0
iblamemysel5
Диегус☦️|#TeamPixel :
2026-06-10 08:42:28
0
chovy360
Chovy :
Ur so pretty
2026-05-31 04:55:54
0
lancijuana
lancijuana :
mirin’ u
2026-06-05 05:05:16
0
user842815142
Waka :
Beautiful 👌👌👌
2026-05-31 06:59:09
0
.dallas.17
dallas :
2026-06-01 22:05:18
0
tribunaryfungus
Tribunaryfungus :
2026-06-10 13:08:40
0
val498774
Val :
cutest girl ever omg
2026-05-27 22:20:25
0
To see more videos from user @girlrendering, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میاں سعید صاحب نڈر ہوں گے، لیکن اس پورے معاملے کے ساختی اور نظامی مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایمل ولی خان کے مؤقف کو سمجھنا ضروری ہے۔ کمزور تفتیش اور ناقص چالان کی وجہ سے اکثر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی ناقص تفتیش کرنے والے کتنے ایس ایچ اوز یا پولیس افسران کے خلاف کارروائی، معطلی یا احتساب ہوا، جن کی ناقص تفتیش کے نتیجے میں ملزمان بری ہوئے؟ عدالتیں پولیس کی تفتیش، شواہد اور چالان کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ کرتی ہیں۔ اس لیے عدلیہ کیساتھ پولیس کے تفتیشی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس میں مؤثر احتساب یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مجرم کو قانون اور عدالت کے ذریعے سزا ملے، نہ کہ ماورائے عدالت طریقوں سے۔ آج میاں سعید صاحب کے معاملے میں کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے درست کیا، لیکن اگر کل کوئی دوسرا کرپٹ شخص اپنی ذاتی مفاد یا مسئلے کے لیے اسی اختیار کا غلط استعمال کرے تو پھر کیا ہوگا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے۔ ایمل ولی خان کی بات دراصل اسی نظامی مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ وہ وقتی ردِعمل کے بجائے مستقبل کے ممکنہ نتائج کو دیکھنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں ہر شہری کو قانونی تحفظ حاصل ہو، تو ہمیں عدلیہ، پولیس کی تفتیش اور پورے فوجداری نظام میں اصلاحات اور مؤثر احتساب کی بات کرنا ہوگی۔ کیونکہ اگر ہر شخص اپنے ہاتھ میں انصاف لینے لگے اور اپنی مرضی کی جسٹس کے ذریعے دوسروں کو یرغمال بنانے لگے، تو پھر قانون اور ریاستی نظام کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ اسی لیے ایمل ولی خان کے مؤقف کو شخصیات یا وقتی واقعات کے بجائے ایک وسیع تر نظامی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو یہ مجرموں کیساتھ کھڑے ہونے کی بات نہیں اور نا میاں سعید صاحب جیسے ایماندار شخص پر شک ھے بلکہ انے والے وقتوں میں مسلہ کھڑا کرسکتا ھے، نظام وجود میں اسلئے اتے ہیں تاکہ ایک سسٹم کے ذریعے ھر کوئی اپنی دائرے میں رہ کر کام کریں، اگر عدلیہ ناکام ھے تو اسکو درست بنانے کے لیے جدوجھد ہونی چاہئے یا متبادل میں کوئی بھی طریقہ؟؟؟ پاپولر بیانیے کیساتھ اپ ہوسکتے ہیں لیکن غیر پاپولر بات کو سمجھنا چاہئے ایسا نہ ھو کل پر پھچتاوا ہوگا۔۔۔۔ باقی معاشرے کے ناسور کو ختم کرنا چاہئے اور ھم چاہتے ہیں لیکن کوئی طریقہ ہو تاکہ کل اسی سلسلے میں عام لوگ قربانی نہ بننے۔۔۔ پولیس کے لیے سب سے زیادہ طاقت عوامی نیشنل پارٹی چاہتی ھے اسلئے ہم کہتے پختونخوا پولیس ہماری فخر۔۔۔ لیکن نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہم دستور چاہتے ہیں انعام ازل Aimal Wali Khan  #AimalWaliKhan  #police  #ANP  #MianSaeed  #pukhtunkhwa
میاں سعید صاحب نڈر ہوں گے، لیکن اس پورے معاملے کے ساختی اور نظامی مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایمل ولی خان کے مؤقف کو سمجھنا ضروری ہے۔ کمزور تفتیش اور ناقص چالان کی وجہ سے اکثر ملزمان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی ناقص تفتیش کرنے والے کتنے ایس ایچ اوز یا پولیس افسران کے خلاف کارروائی، معطلی یا احتساب ہوا، جن کی ناقص تفتیش کے نتیجے میں ملزمان بری ہوئے؟ عدالتیں پولیس کی تفتیش، شواہد اور چالان کو سامنے رکھ کر ہی فیصلہ کرتی ہیں۔ اس لیے عدلیہ کیساتھ پولیس کے تفتیشی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس میں مؤثر احتساب یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مجرم کو قانون اور عدالت کے ذریعے سزا ملے، نہ کہ ماورائے عدالت طریقوں سے۔ آج میاں سعید صاحب کے معاملے میں کوئی یہ سمجھ سکتا ہے کہ انہوں نے درست کیا، لیکن اگر کل کوئی دوسرا کرپٹ شخص اپنی ذاتی مفاد یا مسئلے کے لیے اسی اختیار کا غلط استعمال کرے تو پھر کیا ہوگا؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر غور کرنا ضروری ہے۔ ایمل ولی خان کی بات دراصل اسی نظامی مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ وہ وقتی ردِعمل کے بجائے مستقبل کے ممکنہ نتائج کو دیکھنے کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں ہر شہری کو قانونی تحفظ حاصل ہو، تو ہمیں عدلیہ، پولیس کی تفتیش اور پورے فوجداری نظام میں اصلاحات اور مؤثر احتساب کی بات کرنا ہوگی۔ کیونکہ اگر ہر شخص اپنے ہاتھ میں انصاف لینے لگے اور اپنی مرضی کی جسٹس کے ذریعے دوسروں کو یرغمال بنانے لگے، تو پھر قانون اور ریاستی نظام کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟ اسی لیے ایمل ولی خان کے مؤقف کو شخصیات یا وقتی واقعات کے بجائے ایک وسیع تر نظامی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر مجرم کو قانون کے مطابق سزا ملے اور کسی بے گناہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو یہ مجرموں کیساتھ کھڑے ہونے کی بات نہیں اور نا میاں سعید صاحب جیسے ایماندار شخص پر شک ھے بلکہ انے والے وقتوں میں مسلہ کھڑا کرسکتا ھے، نظام وجود میں اسلئے اتے ہیں تاکہ ایک سسٹم کے ذریعے ھر کوئی اپنی دائرے میں رہ کر کام کریں، اگر عدلیہ ناکام ھے تو اسکو درست بنانے کے لیے جدوجھد ہونی چاہئے یا متبادل میں کوئی بھی طریقہ؟؟؟ پاپولر بیانیے کیساتھ اپ ہوسکتے ہیں لیکن غیر پاپولر بات کو سمجھنا چاہئے ایسا نہ ھو کل پر پھچتاوا ہوگا۔۔۔۔ باقی معاشرے کے ناسور کو ختم کرنا چاہئے اور ھم چاہتے ہیں لیکن کوئی طریقہ ہو تاکہ کل اسی سلسلے میں عام لوگ قربانی نہ بننے۔۔۔ پولیس کے لیے سب سے زیادہ طاقت عوامی نیشنل پارٹی چاہتی ھے اسلئے ہم کہتے پختونخوا پولیس ہماری فخر۔۔۔ لیکن نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہم دستور چاہتے ہیں انعام ازل Aimal Wali Khan #AimalWaliKhan #police #ANP #MianSaeed #pukhtunkhwa

About