@malik.g436: میرے بھائیو! جب امیر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ میدانِ جنگ کی فتح کے لیے بڑھ رہے تھے، تو سامنے دریائے دجلہ آ گیا۔ فارسیوں نے سارے پل توڑ دیے تھے۔ کشتی ایک بھی نہ تھی۔ دریا ایسا تیز کہ پہاڑ بھی ڈگمگا جائے۔ اب کیا کریں؟ سعد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا روکا، آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کی: *"یا اللہ! تو رب العالمین ہے، ہر چیز تیرے حکم کی محتاج ہے۔ اے اللہ! تو ہمارے لیے اس دریا کو نرم کر دے!"* اللہ اکبر! دعا ختم ہوئی، سعد رضی اللہ عنہ نے نعرہ لگایا: "اللہ کے نام سے دریا میں اترو!" اور خود سب سے پہلے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ میرے بھائیو! یہ کوئی عام منظر نہ تھا۔ سارا لشکر پیچھے پیچھے چل پڑا۔ اللہ کی قدرت دیکھو! دریا کا پانی ایسے ہٹ گیا جیسے کسی نے راستہ بنا دیا ہو۔ گھوڑے پانی پر ایسے چل رہے تھے جیسے سڑک پر چل رہے ہوں۔ پانی گھوڑوں کے پیٹ تک تھا، لیکن نہ ایک صحابی ڈوبا، نہ ایک نیزہ گرا، نہ ایک تھیلا بھیگا۔ دوسرے کنارے پر فارسی فوج کھڑی دیکھ رہی تھی۔ جب یہ منظر دیکھا تو چیخ مار کر بولے: "یا للعجب! یہ جن ہیں یا انسان؟ یہ پانی پر کیسے چل رہے ہیں؟" جب سارے مسلمان پار اتر گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا: "دیکھو! کہیں ہماری کوئی چیز دریا میں رہ تو نہیں گئی؟" ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: "امیر! میرا پیالہ رہ گیا ہے۔" سعد رضی اللہ عنہ نے فوراً حکم دیا: "جاؤ، اسے لے آؤ!" وہ صحابی رضی اللہ عنہ واپس پلٹے، پیالہ اٹھایا اور پھر اللہ کے بھروسے پر پانی پر چل کر لشکر میں آ ملے۔ جب فارسیوں نے یہ دیکھا تو ان کی جان نکل گئی۔ کہنے لگے: "اب ان سے کون لڑے گا؟ یہ تو زمین اور پانی دونوں کے مالک بن گئے ہیں!" اور میدان خالی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ سبحان اللہ! یہ ہے توکل کی شان! جب بندہ کہے "یا اللہ تو ہی کافی ہے" تو دریا بھی راستہ دے دیتے ہیں، اور دشمن کے دل پگھل جاتے ہیں۔ *حوالہ:* تاریخ الطبری، البدایہ والنہایہ - فتحِ مدائن کا واقعہ، سن 16 ہجری