@leneditg: POV : The entire life of a dog... 😥 #fyp #fypシ #Minecraft #dog #sad

LenEdits
LenEdits
Open In TikTok:
Region: ID
Thursday 28 May 2026 01:05:02 GMT
1109967
79890
1211
5228

Music

Download

Comments

tdk_mikashi
Clark John Bughao :
2026-05-31 02:46:21
3125
astro5303
astro! :
uhm did i just hear the pebble bark sound.
2026-06-07 06:26:25
0
chillborchacho
. :
The dog:
2026-05-31 17:49:56
1369
stephannycalderon6
Brittany :
A quien le aparesio primero el de el gato
2026-05-30 21:39:13
2460
king__fashionn
KING FASHION :
The dog
2026-05-30 18:52:37
852
lily_the_poisonousflower
🌿Lily🌿 :
its giving me nostalgia from those Minecraft Animation
2026-06-01 14:29:00
6
lucasta783
Joseph :
el perro: gato cuida de nuestro dueño por mi
2026-06-01 03:13:06
56
samurai._213
Samurai :
there is cat pov to
2026-06-01 06:50:24
6
it_smemoon._
𝑺𝒂𝒍𝒗𝒂𝒕𝒐𝒓𝒆☾.⋆♱🦀 :
"Eu era apenas um cachorro no seu mundo, mas você era o meu mundo inteiro."
2026-06-01 15:22:30
9
alexsjs05
🎭警察🧃⚡️ :
Yo solo era un perro en tu mundo, pero tú eras mi mundo entero.
2026-06-01 22:41:25
16
jesust_740
Jesús :
Yo solo era un perro en tu mundo, pero tú eras mi mundo entero. es lo que dice para los que no saben inglés 🥺🥺😭
2026-05-31 17:40:56
63
uriel.olvera.olve
♤♡◇TU MANCO FF €£¥ :
mis respetos al perro
2026-05-31 19:48:37
41
jose_ramirez101
Ramírez :
Yo solo era un perro en tu mundo Pero tú eras mi mundo entero.
2026-05-31 18:51:41
27
tassy9509
Tassy :
Eu era apenas um cachorro no seu mundo, mas você era o meu mundo inteiro.
2026-05-31 00:46:14
15
To see more videos from user @leneditg, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم بطورِ معاشرہ ناکام ہوئے ہیں، اس لیے نہیں کہ عمارتیں کم ہیں، یا سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بلکہ اس لیے کہ دل ویران ہو گئے ہیں۔ کوئی کتنے دن سے بھوکا ہے، اس کے چولہے میں آخری بار آگ کب جلی تھی، اس کی ماں نے بچوں کو بہلانے کے لیے کتنی راتیں پانی پلا کر سلایا تھا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ کوئی بیماری کے بستر پر پڑا زندگی اور موت کے درمیان معلق ہے، اس کی دوا ختم ہو چکی ہے، اس کی امیدیں بھی شاید، مگر اس کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ لیکن حیرت دیکھیے، کون کہاں گیا، کس نے کیا پہنا، کس سے بات کی، اور کون کتنا گناہ گار ہے، اس کی تفصیل ہر زبان پر موجود ہے۔ ہم نے انسانوں کو نہیں، ان کی غلطیوں کو یاد رکھا۔ ہم نے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انگلیاں رکھ کر انہیں گننا سیکھ لیا۔ کسی کی آنکھ میں چھپا ہوا درد ہمیں نظر نہیں آتا، مگر اس کی لغزش دور سے بھی دکھائی دے جاتی ہے۔ ہم نے کردار کے محافظ بننے کا دعویٰ کیا، مگر انسانیت کی حفاظت بھول گئے۔ ہم نے عدالتیں تو بہت لگا لیں، مگر رحم کے دروازے بند کر دیے۔ ایک شخص روٹی مانگے تو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، مگر کسی کی عزت اچھالنے والے کو محفلوں میں داد ملتی ہے۔ کاش ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ کون بھوکا ہے، کون تنہا ہے، کون اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے، تو شاید آج اتنی نفرتیں نہ ہوتیں۔ معاشرے اس وقت نہیں مرتے جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، بلکہ اس وقت مرتے ہیں جب لوگوں کے دل دوسروں کے درد سے خالی ہو جائیں۔ اور افسوس... ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں لوگوں کے عیب مشہور ہیں، مگر ان کی تکلیفیں گمنام۔ اسی لیے دل کہتا ہے:
ہم بطورِ معاشرہ ناکام ہوئے ہیں، اس لیے نہیں کہ عمارتیں کم ہیں، یا سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، بلکہ اس لیے کہ دل ویران ہو گئے ہیں۔ کوئی کتنے دن سے بھوکا ہے، اس کے چولہے میں آخری بار آگ کب جلی تھی، اس کی ماں نے بچوں کو بہلانے کے لیے کتنی راتیں پانی پلا کر سلایا تھا، یہ کسی کو معلوم نہیں۔ کوئی بیماری کے بستر پر پڑا زندگی اور موت کے درمیان معلق ہے، اس کی دوا ختم ہو چکی ہے، اس کی امیدیں بھی شاید، مگر اس کی خبر لینے والا کوئی نہیں۔ لیکن حیرت دیکھیے، کون کہاں گیا، کس نے کیا پہنا، کس سے بات کی، اور کون کتنا گناہ گار ہے، اس کی تفصیل ہر زبان پر موجود ہے۔ ہم نے انسانوں کو نہیں، ان کی غلطیوں کو یاد رکھا۔ ہم نے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انگلیاں رکھ کر انہیں گننا سیکھ لیا۔ کسی کی آنکھ میں چھپا ہوا درد ہمیں نظر نہیں آتا، مگر اس کی لغزش دور سے بھی دکھائی دے جاتی ہے۔ ہم نے کردار کے محافظ بننے کا دعویٰ کیا، مگر انسانیت کی حفاظت بھول گئے۔ ہم نے عدالتیں تو بہت لگا لیں، مگر رحم کے دروازے بند کر دیے۔ ایک شخص روٹی مانگے تو سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، مگر کسی کی عزت اچھالنے والے کو محفلوں میں داد ملتی ہے۔ کاش ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ کون بھوکا ہے، کون تنہا ہے، کون اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے، تو شاید آج اتنی نفرتیں نہ ہوتیں۔ معاشرے اس وقت نہیں مرتے جب ان کے خزانے خالی ہو جائیں، بلکہ اس وقت مرتے ہیں جب لوگوں کے دل دوسروں کے درد سے خالی ہو جائیں۔ اور افسوس... ہم اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں لوگوں کے عیب مشہور ہیں، مگر ان کی تکلیفیں گمنام۔ اسی لیے دل کہتا ہے: "ہم واقعی بطورِ معاشرہ ناکام ہوئے ہیں، کیونکہ ہمیں لوگوں کے گناہوں کی خبر ہے، مگر ان کی بھوک، بیماری اور تنہائی کا علم نہیں۔"✨ #creatorsearchinsights2026 #foryou #tiktokvirl #followformorevideo #tiktokvirl

About