@beinghuman1045: کبھی کبھی انسان اپنی محبت کی سچائی ثابت کرنے کے لیے خود ہی اپنے خلاف گواہی دے دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے دل سے چاہا، خلوص سے نبھایا، مگر پھر بھی وہ خود کو ہی قصوروار ٹھہرا لیتا ہے، صرف اس لیے کہ جسے وہ چاہتا ہے اس پر کوئی بوجھ نہ آئے۔ میں نے بھی تمہیں آزاد کرنے کے لیے یہی راستہ چنا—اپنی وفا کو کمتر سمجھ لیا، اپنی محبت کو ناکافی مان لیا، حالانکہ میرے دل کی گہرائیوں میں سچ کچھ اور ہی تھا۔ مگر محبت میں اکثر سچ نہیں، بلکہ قربانی جیت جاتی ہے۔ تمہاری بے رخی کو میں نے اپنی کمی سمجھا، تمہارے بدلتے رویوں کو اپنی غلطی کا نام دیا، اور یوں آہستہ آہستہ خود کو مٹا کر تمہیں مکمل کر دیا۔ شاید یہ میرا سب سے بڑا وہم تھا کہ میری خاموش قربانی تمہیں کبھی احساس دلائے گی، مگر کچھ لوگ احساس سے زیادہ آزادی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لیے میں نے تمہیں بغیر کسی سوال، بغیر کسی شکوے کے جانے دیا، کیونکہ کبھی کبھی محبت کا سب سے خالص روپ یہی ہوتا ہے کہ ہم کسی کو روکنے کے بجائے آزاد کر دیں۔ اب نہ دل میں وہی شور ہے، نہ آنکھوں میں وہی انتظار۔ ایک عجیب سی خاموشی ہے جو میرے وجود کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ خاموشی بظاہر سنّاٹا لگتی ہے، مگر درحقیقت یہی میرا سکون ہے۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ ہر بات کا جواب لفظوں میں نہیں دیا جاتا، کچھ کہانیاں خاموشی میں ہی مکمل ہو جاتی ہیں۔ اب میں نے خود کو تم سے نہیں، بلکہ ان یادوں سے آزاد کر دیا ہے جو کبھی میری کمزوری تھیں- #unfreezemyacount #videoviral #foryou