اب نہ ہوں گی یہ قربتیں میسر الوداع
شاید یہاں تک ہی تھا یہ سفر الوداع
اج شام جی بھر کے دیکھ لو ہمیں
پھر نہ ہو گی ہماری کوئی خبر الوداع
ان راہ تکتی نگاہوں کو سمجھا لینا
اب ہم تم سے ملیں گےسحر محشر الوداع
بہت آوارگی کر لی تیرے کوچے میں ہم نے
اب ہم کو دیتا ہے ہمارا گھر صدا الوداع
کہاں سے چلے تھے اور کہاں آ کر رکے ہیں
شاید یہی ہے اپنا اہتمام میرے ہمسفر آلوداع یہ کس موڑ پہ دی ہے تو نے ہم کو صدا
جی تو چاہتا ہے لوٹ آوں مگر آلوداع