@angkringan_j: Udah ready ditunggu kedatangan mu mas ☕️☕️#fyp #fypシ #angkringan #gedangansidoarjo #sidoarjo

Angkringan jawara 1
Angkringan jawara 1
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 29 May 2026 12:37:10 GMT
39630
985
18
16

Music

Download

Comments

mas.a2793
Mas. A :
Bismillah seng abu”
2026-05-30 02:47:57
1
b1980.0
🐒🐒 :
infooo
2026-05-29 20:34:29
0
shedeq
🔥 RENTAL TUYUL👑 :
yang abu2 boleh buat aku
2026-05-31 13:51:13
0
ahmadulhakim602
brengsek_PGGT :
wes buka ta MBK?
2026-05-30 14:05:21
0
bahar.udin584
Bahar Udin :
klambi Abang kaku 🤭🤭
2026-05-29 14:28:12
0
takselamanyaindah052
warselawer :
wtw. takut GK bisa pulang 😁
2026-05-30 12:04:33
0
erik.agus95
Erik Agus :
2026-05-29 13:14:30
0
ryanqaila963
lowoireng :
ditunggu kakak setengah jam lagi datang 😂
2026-05-30 07:06:47
0
keni6544
keni :
cek harga
2026-06-02 12:17:04
0
supriyon76
Supri :
mbah yg baju merah lagi nopo to lagi baca yasin yo 🙏😅
2026-05-29 15:40:37
0
ramo37582
Cak Ramo :
😂
2026-06-01 04:40:24
0
mailslank
mail slank bonek :
🥰🥰🥰
2026-05-29 13:10:39
0
sandiwara717
sandiwara :
😂😂😂
2026-05-29 14:40:14
0
i.m.black5
I M Black :
🥰🥰🥰
2026-05-29 13:31:35
0
quenzshopp
QuenzShop :
🥰🥰🥰
2026-05-29 14:04:05
0
m_nizar20
kecils mbetik :
🥰🥰🥰
2026-05-30 15:06:51
0
deri86247
semangat :
🙃🙃🙃
2026-06-01 12:07:51
0
To see more videos from user @angkringan_j, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جدائی شاید دنیا کا واحد دکھ ہے جس میں انسان کسی کو کھو کر بھی اسے اپنے اندر سے نکال نہیں پاتا۔ یہ قبر جیسی نہیں کہ مٹی ڈال کر قصہ ختم ہو جائے؛ یہ تو ایسا مزار ہے جس پر انسان عمر بھر آتا جاتا رہتا ہے، کبھی فاتحہ کے لیے، کبھی اپنے ہی کسی حصے کا سوگ منانے۔ l کچھ جدائیاں انسان کو رلاتی نہیں، اس کے **رونے کی تعریف بدل دیتی ہیں۔** پھر آنسو صرف آنکھ سے نہیں گرتے؛ کسی پرانے گیت پر خاموش ہو جانا، کسی مخصوص راستے سے گزرنے سے گریز کرنا، کسی نام کو سن کر گفتگو بدل دینا، یا برسوں بعد بھی کسی خوشی میں اچانک دل کا بجھ جانا—یہ سب اسی جدائی کے پوشیدہ آنسو ہوتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یاد ہمیشہ بڑی چیزوں سے نہیں آتی۔ کبھی ایک معمولی سا جملہ، چائے کے کپ سے اٹھتی ہوئی بھاپ، کسی موسم کی پہلی بارش، کسی دکان پر رکھی وہی خوشبو… انسان کو برسوں پیچھے پھینک دیتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ وقت نے واقعات تو دفن کیے ہیں، **احساس نہیں۔** کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، انسان آخر کس چیز سے بچھڑتا ہے؟ ایک شخص سے؟ یا اس شخص کے ساتھ موجود اپنے اُس وجود سے، جو اب دوبارہ کبھی نہیں بن سکتا؟ کیونکہ بعض لوگ ہمیں صرف چھوڑ کر نہیں جاتے؛ وہ ہمارے اندر موجود ایک خاص انسان کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ان کے بعد ہم وہی نہیں رہتے جو ان سے پہلے تھے۔ ہماری ہنسی میں ایک کمی، ہماری دعاؤں میں ایک نام، اور ہماری خاموشی میں ایک ایسا سوال رہ جاتا ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ عمر کے پچاسویں حصے میں بھی اگر کبھی کسی شام سورج اسی طرح ڈوبے، ہوا میں وہی خنکی ہو، اور زندگی بے خبری میں مجھے تمہاری طرف لے جائے، تو شاید میں پھر اسی نادان بچے کی طرح رو دوں گی۔ اس لیے نہیں کہ میں تمہیں بھولی نہیں ہوں گی— بلکہ اس لیے کہ **کچھ لوگ یاد نہیں رہتے، انسان کی ساخت میں شامل ہو جاتے ہیں۔** اور پھر ان سے جدائی، ان کی یاد سے جدائی نہیں رہتی… *اپنے ہی ایک حصے سے عمر بھر کی ہجرت بن جاتی ہے۔*
جدائی شاید دنیا کا واحد دکھ ہے جس میں انسان کسی کو کھو کر بھی اسے اپنے اندر سے نکال نہیں پاتا۔ یہ قبر جیسی نہیں کہ مٹی ڈال کر قصہ ختم ہو جائے؛ یہ تو ایسا مزار ہے جس پر انسان عمر بھر آتا جاتا رہتا ہے، کبھی فاتحہ کے لیے، کبھی اپنے ہی کسی حصے کا سوگ منانے۔ l کچھ جدائیاں انسان کو رلاتی نہیں، اس کے **رونے کی تعریف بدل دیتی ہیں۔** پھر آنسو صرف آنکھ سے نہیں گرتے؛ کسی پرانے گیت پر خاموش ہو جانا، کسی مخصوص راستے سے گزرنے سے گریز کرنا، کسی نام کو سن کر گفتگو بدل دینا، یا برسوں بعد بھی کسی خوشی میں اچانک دل کا بجھ جانا—یہ سب اسی جدائی کے پوشیدہ آنسو ہوتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یاد ہمیشہ بڑی چیزوں سے نہیں آتی۔ کبھی ایک معمولی سا جملہ، چائے کے کپ سے اٹھتی ہوئی بھاپ، کسی موسم کی پہلی بارش، کسی دکان پر رکھی وہی خوشبو… انسان کو برسوں پیچھے پھینک دیتی ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ وقت نے واقعات تو دفن کیے ہیں، **احساس نہیں۔** کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، انسان آخر کس چیز سے بچھڑتا ہے؟ ایک شخص سے؟ یا اس شخص کے ساتھ موجود اپنے اُس وجود سے، جو اب دوبارہ کبھی نہیں بن سکتا؟ کیونکہ بعض لوگ ہمیں صرف چھوڑ کر نہیں جاتے؛ وہ ہمارے اندر موجود ایک خاص انسان کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ ان کے بعد ہم وہی نہیں رہتے جو ان سے پہلے تھے۔ ہماری ہنسی میں ایک کمی، ہماری دعاؤں میں ایک نام، اور ہماری خاموشی میں ایک ایسا سوال رہ جاتا ہے جس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ اسی لیے مجھے یقین ہے کہ عمر کے پچاسویں حصے میں بھی اگر کبھی کسی شام سورج اسی طرح ڈوبے، ہوا میں وہی خنکی ہو، اور زندگی بے خبری میں مجھے تمہاری طرف لے جائے، تو شاید میں پھر اسی نادان بچے کی طرح رو دوں گی۔ اس لیے نہیں کہ میں تمہیں بھولی نہیں ہوں گی— بلکہ اس لیے کہ **کچھ لوگ یاد نہیں رہتے، انسان کی ساخت میں شامل ہو جاتے ہیں۔** اور پھر ان سے جدائی، ان کی یاد سے جدائی نہیں رہتی… *اپنے ہی ایک حصے سے عمر بھر کی ہجرت بن جاتی ہے۔*

About