@calvinplow:

CalvinPlow
CalvinPlow
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 30 May 2026 00:44:09 GMT
314
13
5
5

Music

Download

Comments

wobblytripod
Wobblytripod :
Yeah Steve. Chill. dayum.
2026-05-30 01:00:20
1
blondegnigmacy
Jen Chéri :
goddammit steve
2026-05-30 04:43:38
1
noz.low
Noz Low :
I need an update
2026-05-30 03:48:47
1
stynkwrinkle81
Stynkwrinkle81 :
f steve
2026-06-02 23:20:07
0
To see more videos from user @calvinplow, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ فارسی کا صوفیانہ شعر ہے جو حضرت سلطان باہو سے منسوب کیا جاتا ہے۔
یہ فارسی کا صوفیانہ شعر ہے جو حضرت سلطان باہو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ "جائے کہ من رسیدم، امکاں نہ ہیچ کس را" صوفیانہ مطلب ہے کہ جس مقام (روحانی مرتبے) پر میں پہنچ گیا ہوں، وہاں تک پہنچنے کا امکان (یا طاقت) کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ یہ شعر تصوف میں فنا فی اللہ (اللہ میں مٹ جانا) اور بقا باللہ (اللہ کے ساتھ باقی رہنا) کی انتہائی منزل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ صوفی کہتا ہے کہ میں اپنی ہستی سے اس قدر بےگانہ ہو چکا ہوں کہ اب وہاں صرف ذاتِ حق ہے، اور یہ مقامِ قربِ الٰہی کا وہ اعلیٰ درجہ ہے جہاں تک عام عقل کی رسائی ممکن نہیں۔ یہ شعر ایک کامل مرشد یا ولی کی شان بیان کرتا ہے جو ذاتِ حق کے اسرار سے واقف ہو چکا ہو۔ "شہباز لامکانم، آنجا کجا مگس را" شہبازِ لامکاں (ایسی جگہ جہاں کوئی حد نہ ہو، ذاتِ الہیٰ کا مقام) کا شاہین/باز ہوں۔ صوفی یہاں اپنی روح کی آزادی کو بیان کر رہا ہے کہ وہ دنیاوی حدود سے نکل چکا ہے۔ آن جا کجا مگس را(وہاں) مگس (مکھی) کی کیا مجال؟ یعنی جس اعلیٰ روحانی مقام (لامکاں) پر میں پہنچ گیا ہوں، وہاں عقلِ ناقص یا دنیاوی خواہشات (جو مکھی کی طرح کمزور اور گندگی کی طرف متوجہ ہیں) کی کوئی رسائی نہیں ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "یار بلاوے بھاؤ سے، منہ پہ گیا نہ جائے، دلہن میلی، پی اجلا، لاکھ سہاگ نہ پائے" یار (محبوب) بُلاوے بھاؤ (محبت) سے یعنی جب خدا اپنے بندے کو محبت سے بلاتا ہے، تو بندہ اپنے نفس، گناہوں اور دنیاوی تعلقات (منہ) کی وجہ سے وہاں نہیں جا پاتا۔ مطلب کہ انسان دنیاوی لذتوں میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ روحانی راستے پر چلنے میں بوجھ محسوس کرتا ہے۔ دلہن (روح) روح جو دنیاوی گناہوں کی وجہ سے آلودہ (میلی) ہو چکی ہے۔ اور محبوبِ حقیقی (پی) پاک اور نورانی (اجلا) ہے۔ عاشق (روح) گناہوں سے ناپاک ہے اور معشوق (خدا) پاک ہے۔ لاکھ سہاگ(روحانی لذت) نہ پائے یعنی جب تک روح پاکیزہ (میلی سے اجلی) نہیں ہوتی، وہ لاکھ کوشش کر لے، اسے خدا کا حقیقی قرب اور سچی روحانیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ شعر انسان کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ دنیاوی آلودگی (نفس) کو دور کر کے، روح کو پاک کرے تاکہ وہ پاک رب (اجلا پی) کے وصال کے قابل بن سکے۔ ۔ ۔ ۔ #takhayyul_ #nfak_says #sufiqawali #sufism #abidaparveen

About