@qabayelwaxxir: خطیبِ بے بدل، ترجمانِ حق، نڈر اور بے باک عالمِ دین، حضرت مولانا محمد امیر المعروف "مولانا بجلی گھر" صاحب (رحمتہ اللہ علیہ)۔ "وہ حق بات کہنے میں کبھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوئے، خواہ سامنے کوئی بھی ہو!" آپ 1927ء میں پیدا ہوئے。 آپ کا تعلق درہ آدم خیل کے گاؤں بیلاکی خیل (قوم آفریدی) سے تھا۔ بعد میں آپ مستقل طور پر پشاور منتقل ہو گئے。 آپ نے اپنی دینی تعلیم پشاور کے مشہور دینی ادارے جامعہ اسلامیہ دارالعلوم سرحد سے حاصل کی。 آپ نے 1950ء کی دہائی میں یہاں سے علومِ اسلامیہ (قرآن، حدیث، اور فقہ) کی تکمیل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ اسی ادارے میں بطور استاد مقرر ہوئے اور سالہا سال طلبہ کو قرآن و حدیث کا درس دیتے رہے پشاور کے علاقے بھاناماری میں ایک الیکٹرک گرڈ اسٹیشن تھا، جس کے پاس موجود مسجد میں آپ تقریباً 23 سال تک امامت اور خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے。 اسی گرڈ اسٹیشن کی مناسبت سے یہ مسجد "مسجد بجلی گھر" کہلائی اور آپ عوام میں "مولانا بجلی گھر" کے نام سے مشہور ہو گئے。 🎙️ آپ سیاسی و سماجی برائیوں پر انتہائی سخت لیکن طنزیہ و مزاحیہ انداز میں تنقید کرتے تھے。 80 اور 90 کی دہائی میں ان کے بیانات کی آڈیو کیسٹس اس قدر مقبول تھیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ، دکانوں اور گھروں میں صرف ان کے بیانات گونجتے تھے。 اپنے نڈر بیانات اور حکمرانوں پر کڑی تنقید کی وجہ سے آپ کو مختلف ادوار میں تین بار جیل بھی جانا پڑا。 🕯️ وفاتِ حسرت آیات: یہ چمکتا ہوا سورج 30 دسمبر 2012ء کو اتوار کے روز پشاور میں طویل علالت کے بعد ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا。 وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 85 سال تھی。 جنازہ: آپ کا نمازِ جنازہ پشاور کے قیوم اسٹیڈیم میں ادا کیا گیا جس میں لاکھوں چاہنے والوں نے شرکت کی。 اللہ رب العزت حضرت مولانا محمد امیر بجلی گھر صاحب کی دینی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین! 💬 اگر تحریر اچھی لگی ہو تو آگے شیئر کر کے ثوابِ جاریہ میں حصہ لیں۔ @★𝗪𝗔𝗦𝗘𝗘𝗠✦𝗤𝗔𝗕𝗔𝗬𝗘𝗟★