@hussaingbain2: نہ جینے کی سہولت ہے نہ مرنے کی اِجازت ہے فقط آسان ہے کہنا،مُجھے تم سے مُہمبت ہے مُجھے اُس کی،اُسے اُس کی،اُسے اُس کی ضرورت ہے سوائے اس مصیبت کے یہ دنیا خوبصورت ہے کسی کی چُپ کا مطلب یہ نہیں،شکوہ نہیں اُس کو کھلا اعلان ہے یہ تو،شکایت ہی شکایت ہے مُکر جانا،بدل جانا،جفا کرنا،دغا دینا یہ سب کُچھ آگیا تُجھ کو تو پھر تیری حکومت ہے غمِ ہنستی،غمِ بستی،غمِ دوراں،غمِ ہجراں اور اس پر بھی دھڑکنا دل کا،ہم کو اس پر حیرت ہے نہ اب صیاد ہے حائل نہ میری قید ہے باقی تو پھر زندان یہ کیونکر،تو پھر کیسی حراست ہے کُچھ اتنا ڈوب جاتا ہے یہ ابرک ہر کہانی میں ہر ایک کردار کی وحشت لگے اپنی ہی وحشت ہے اتباف ابرک