میں اپنے ابو کے ساتھ اس کی عیادت کے لیے گیا۔ سفر بہت لمبا تھا جس کی وجہ سے ہمیں کچھ تھکاوٹ بھی ہوگئی تھی ۔ اس وقت میری عمر تقریباً کوئی 12 سے 13 سال کی ہوگی۔ ہم وہاں گئے اور ہم نے اس کی عیادت کی اور کچھ دیر وہاں رکے اور پھر گھر کو روانہ ہوگئے۔ جب ہم وہاں سے نکلنے لگے توں میرے عزیز نے میرا بازو تھاما اور بولا بیٹا ایک وقت آئے گا جب لوگ تیرا کمنٹ پڑھ کے اپنا قیمتی وقت ضائع کریں گے ۔
بالآخر آج وہ دن آہی گی