@tahir.memon2: Kya hanafi fiqah bukhari ke khilaf hai?

Allama Tahir Madani
Allama Tahir Madani
Open In TikTok:
Region: PK
Sunday 31 May 2026 07:22:22 GMT
265995
12968
512
2954

Music

Download

Comments

user2190193122
user2190193122 :
امام ابو حنیفہ کی حدیث کی کوئی کتاب ہے تو نام بتائیے
2026-05-31 13:22:19
42
wasimakhtar576
Waseem Akhtar :
تم ہمیشہ احادیث کا الٹ مطلب دیتے ہو رسول اللہ کی ان احادیث کا مطلب ہے کہ تم جلدی اٹھو اور فجر سے پہلے سنتیں پڑھو مقصد صبح جلدی اٹھنا اور دو سنتیں پڑھنا ہے یعنی دو رکعت پڑھنا اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ تم تاخیر سے اٹھو جاگو اور جب فرض نماز کھڑی ہو جائے تو سنتیں پڑھنے لگ جاؤ یہاں تک کہ فرض نماز نکل جائے سنت کتنی بھی ضروری ہو فرض سے زیادہ ضروری نہیں ہو سکتی سنت کا ہم سے حساب نہیں ہوگا ہم سے فرض نماز کا حساب ہوگا
2026-06-01 15:56:05
35
mohsinjaved36
Mohsin Javed :
meherbani farma kar logon ko Sahi guide Kiya Karen
2026-05-31 09:30:47
18
altafsultan20
altafsultan20 :
مفتی صاحب! اگر یہ بھی بتا دیتے کہ مزکور احادیث ضعیف ہیں یا صحیح ہیں؟
2026-05-31 14:14:18
16
mehmood55247
Mehmood🇸🇦 :
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص (خود قیس بن عمرو) کو دیکھا کہ وہ فجر کی فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: 'فجر کی نماز تو دو ہی رکعت ہے؟' اس شخص نے عرض کیا: 'میں نے فرض سے پہلے کی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں، اس لیے اب پڑھی ہیں۔' یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے (اور منع نہیں فرمایا)۔" (سنن ابی داؤد: 1267، سنن ترمذی: 422) اسلامی فقہ کا اصول ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور آپ ﷺ اس پر خاموشی اختیار فرمائیں (منع نہ کریں)، تو وہ کام جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسے "حدیثِ تقریری" کہتے ہیں۔
2026-05-31 14:02:29
30
zakriaalkhairi850
Zakria Alkhairi 850 :
حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص (خود قیس بن عمرو) کو دیکھا کہ وہ فجر کی فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: 'فجر کی نماز تو دو ہی رکعت ہے؟' اس شخص نے عرض کیا: 'میں نے فرض سے پہلے کی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں، اس لیے اب پڑھی ہیں۔' یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے (اور منع نہیں فرمایا)۔" (سنن ابی داؤد: 1267، سنن ترمذی: 422) اسلامی فقہ کا اصول ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور آپ ﷺ اس پر خاموشی اختیار فرمائیں (منع نہ کریں)، تو وہ کام جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسے "حدیثِ تقریری" کہتے ہیں۔
2026-05-31 14:44:28
17
abu_ibrahem_hadi
abu_ibrahem_hadi :
کہانی
2026-05-31 13:37:28
7
sheikhkamran101
Sheikh Kamran✌✌✌ :
ماشاءاللہ Allha Kareem Mazeed AP k ilm ma barkty Ata Farmay bhot Achy Andaz sy AP samjaty hn ❣️
2026-05-31 08:32:57
18
madni..sahib
حافظ کفایت اللہ مدنی :
یہ جناب کی تاویل ھے فضیلت اور چیز ھے اور حکم اور چیز ھے
2026-05-31 13:09:53
12
03154925250hamid
ابو حسان :
جزاک اللہ خیرا کثیرا اللہ تعالی اپ کی عمر میں اپ کے علم میں برکتیں عطا فرمائے بہت ہی زبردست انداز میں اپ نے مسئلے کی وضاحت فرمائی ہے ویسے تو بہت سارے علماء نے وضاحت کی ہے لیکن اس انداز سے اس یعنی کہ طریقے سے کسی بھی نہیں کی لیکن الحمدللہ اپ نے بہت اچھے طریقے سے کتابوں میں تو ہمیں مل جاتی ہے لیکن عام لوگوں کے لیے یہ بہت ہی زبردست طریقہ ہے کہ اپ سوشل میڈیا کے ذریعے سے ان تک یہ پیغام پہنچا رہے ہیں اور بھی بہت سارے مسائل ہیں اگر ان کی اپ وضاحت کریں تو اپ کی بہت مہربانی ہوگی کیونکہ اپ کی فالونگ بھی اچھی ہے اور اپ بات کو واضح کرنے کا انداز بھی بہت اچھے طریقے سے جانتے ہیں اللہ اپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
2026-05-31 12:00:53
8
tahir.mughal685
Tahir Mughal :
اسلام علیکم مفتی صاحب اللّٰہ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے آمین ۔ مفتی صاحب آپ سے رابطہ کیسا کیا جائے میں آپ سے ایک مسئلے پر بات کر کے حل چاہتا ہوں ۔اگر آپ کہہ تو انباکس میں میسج کرلوں
2026-05-31 11:05:15
7
siwanstar
Alam :
جزاک اللّہ خیرا ، آپ نے بالکل درست فرمایا 👍🥰
2026-05-31 18:31:19
5
zubairhassanrajput
Zubair Rajput :
امام اعظم محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم
2026-05-31 17:18:01
11
muhammad.shafique662
Muhammad Shafique :
@Zakria Alkhairi Official:حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص (خود قیس بن عمرو) کو دیکھا کہ وہ فجر کی فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: 'فجر کی نماز تو دو ہی رکعت ہے؟' اس شخص نے عرض کیا: 'میں نے فرض سے پہلے کی دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں، اس لیے اب پڑھی ہیں۔' یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے (اور منع نہیں فرمایا)۔" (سنن ابی داؤد: 1267، سنن ترمذی: 422) اسلامی فقہ کا اصول ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور آپ ﷺ اس پر خاموشی اختیار فرمائیں (منع نہ کریں)، تو وہ کام جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسے "حدیثِ تقریری" کہتے ہیں۔
2026-05-31 19:11:03
13
adeel.jaraal
Adeel Jaraal Rajput 🥀 :
آپ کی مینشن کردہ حدیث
2026-05-31 16:41:32
14
abbasdhillonabba7
Abbasdhillon :
یہ تفصیل امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی کونسی کتاب میں ہے حوالہ
2026-05-31 13:37:38
9
chshahnawazbhatti786
CH. SHAHNAWAZ BHATTI :
💖💖💖 یا حی یا قیوم
2026-05-31 10:50:07
6
muhammad.haji.asi3
Muhammad Haji Asif :
اللہ پاک آپکے علم و عمل میں برکتیں عطا فرمائے آمین ثم آمین
2026-05-31 10:30:22
6
userranakaka
Rajpoot :
ماشاء اللہ اس طرح حنفی مسائل پر گفتگو کیجیے
2026-05-31 15:03:54
6
khanfrombwp
khanfrombwp :
fajar ki itni ziyada ahmiyat hai waqai hai to 10 min pehle uth jaya kro lazmi tub hi uthna hai jub jamat khri ho Jay. ab to log is ijazat ki waja se ye amal aam ho gaya hai
2026-05-31 11:34:36
5
user8262328597463
Masoom :
bat bani nai he apse,,,,
2026-07-04 02:28:25
0
abdur.choudhary
Abdur Choudhary :
Haq, Thanks to aware
2026-06-27 19:45:54
1
saifabbasi700
Saif Abbasi :
کہانی
2026-05-31 14:37:08
4
ar003607
AR. :
ماشاءاللہ،✨ بہت خوب۔ اس عمدہ وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے تو کیا کہا جا سکتا ہے۔
2026-06-14 03:26:25
1
ex.sectarian
it's AK :
baihaqi ki riwayat intehai zaeef ha😭
2026-05-31 12:13:24
4
To see more videos from user @tahir.memon2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About