یعنی جو دوسروں کے خیر خواہ اور بھلائی نہیں چاہتے ہیں اور ہمیشہ دوسروں کو گرانے کے سوچھتے ہیں وہ کبھی خوشی کا دن نہیں دیکھیں گے اصل انسانیت تو یہی ہے کہ دوسروں کو فائدے پہنچانے کی کوشش کریں جس طرح خود خوش ہونا چاہتے ہو اسی طرح دوسروں کیلئے بھی خوشحالی کا ذریعہ بنیں ہر چیز پر رحم کریں ظلم نہ کریں ہمیشہ نقصان سے خود بھی محفوظ رکھیں اور دوسروں کو بھی یہی تو حضرت محمد ص نے فرمایا ہے کہ خود کیلئے جو پسند کرتے ہو دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو اور اللہ تعالیٰ ہر ایک انسان کو اپنے علم و دنائی و طاقت سے جھانکیں گے ۔اب ہم سب انسانوں کی یہ فرض ہے کہ جتنا ہمارا علم ،طاقت ہو اتنا ہی لوگوں کے لیے خیر خواہی،نیکی و ہمدردی کا سوچیں گے اتنا ترس کریں گے اتنا برداشت کریں گے اتنا لوگوں کو برائی و نقصان سے بچائیں گے اتنا انھیں غلط راستے سے صحیح راہ پر لائیں گے اتنا مہربانی کریں گے اتنا ایماندار ہوں گے اتنا فائدے پہنچائیں گے ۔