@kingsadami39: اس قول کا مطلب یہ ہے کہ معاف کرنا ایک اعلیٰ اخلاقی صفت ہے۔ اگر کسی نے آپ کے ساتھ غلطی یا زیادتی کی ہو تو دل میں نفرت اور انتقام پالنے کے بجائے اسے معاف کر دینا انسان کی بڑائی اور اچھے کردار کی نشانی ہے۔ لیکن معاف کرنا اور دوبارہ اندھا اعتماد کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ اگر کسی شخص نے پہلے آپ کے اعتماد کو توڑا ہو، دھوکا دیا ہو یا بار بار غلط رویہ اختیار کیا ہو، تو صرف معاف کر دینے کی وجہ سے یہ ضروری نہیں کہ آپ اسی درجے کا اعتماد دوبارہ اس پر قائم کر لیں۔ اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سامنے والے کو اپنے عمل سے اپنی سچائی اور ذمہ داری ثابت کرنا پڑتی ہے۔ خلاصہ: معاف کرنا دل کی صفائی اور اخلاقی بلندی ہے۔ اعتماد کرنا احتیاط اور تجربے کا معاملہ ہے۔ اس لیے کسی کی غلطی کو معاف کر دینا اچھی بات ہے، لیکن بغیر سوچے سمجھے دوبارہ اسی پر بھروسہ کر لینا دانشمندی نہیں۔ سادہ الفاظ میں: "دل سے معاف کر دو، مگر سبق مت بھولو۔" #صدام_حسين_يا_صقر_العرب_الله_يرحمك #viralpicture #foryou #foryoupage