*اردو متن:*
نہ پا سکیں گے جوانانِ باد مست مجھے
خود اپنی ذات میں خمِ خائنہ الست ہوں میں
*مطلب:*
یہ بہت بلند تصوف والا شعر ہے۔ "خمِ خائنہ الست" سے مراد وہ وعدہ ہے جو روحوں سے اللہ نے "عالمِ ارواح" میں لیا تھا: "الستُبربکم" یعنی "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" اور سب نے کہا "بلیٰ"۔
شاعر کہہ رہا ہے کہ میں عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہوں۔ میں اپنی ذات میں ہی وہ راز لیے ہوئے ہوں جو صرف خاص لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ میں دنیاوی، سطحی لوگوں کے لیے نہیں ہوں۔
2026-06-03 12:24:40
5
Khuzaimajaan :
koi tashree bta do plz🥺🥺
2026-06-02 01:47:27
4
Annabelle11 :
tashreeh
2026-06-02 05:32:41
0
sam :
خون خانئہ۔۔۔نہیں ہے یہ خم خانئہ ہے۔۔
دنیا کی ظاہری خوشیوں میں مست لوگ میری گہرائی کو کبھی نہیں سمجھ سکتے،کیونکہ میں اپنی ذات کے اندر ازل سے ہی ایک گہرا روحانی غم اور عشق چھپائے بیٹھا ہوں۔
2026-06-02 11:21:45
5
H.Z :
نہ پا سکیں گے جوانان باد مست مجھے
خود اپنی ذات میں خم خائنہ الست ہوں میں۔✨