@bazm.faqeer: ہم ایک ایسی دنیا میں جیتے ہیں جہاں نظریں رنگوں کی محتاج ہیں اور دل تنوع کا تماشائی۔ کبھی ہم قوسِ قزح کے سات رنگوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں، تو کبھی کائنات کے بکھرے ہوئے روپ ہمیں اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ یہ کثرت—یہ رشتے، یہ محبتیں، یہ رونقیں اور یہ مختلف راستے—بظاہر اتنے سحر انگیز ہیں کہ انسان انھی کو کل کائنات سمجھ بیٹھتا ہے۔ وہ رنگوں کے اس میلے میں ایسا کھوتا ہے کہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سارے رنگ کسی ایک ہی مرکز سے پھوٹ رہے ہیں۔ لیکن سچی بصیرت اور صوفیانہ شعور کا آغاز تب ہوتا ہے جب انسان منشور (Prism) کے پار دیکھنا سیکھتا ہے۔ جب اسے یہ ادراک ہوتا ہے کہ سرخ، نیلا، ہرا یا زرد... کوئی بھی رنگ اپنی ذات میں مستقل نہیں ہے۔ یہ سب تو اسی ایک پاکیزہ، بے داغ اور کامل 'سفید روشنی' کے دل فریب روپ ہیں جو الگ الگ ظرف میں ڈھل کر الگ الگ دکھائی دے رہے ہیں۔ تصوف ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ جب تک دل "وحدت آشنا" نہیں ہوتا، یہ کثرت ایک سلجھی ہوئی پہیلی کے بجائے ایک لایعنی الجھن بنی رہتی ہے۔ انسان دنیا کی کثرت میں جتنا بھٹکتا ہے، اتنا ہی اکیلا اور پیاسا ہوتا جاتا ہے، کیونکہ وہ عکس کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے اور اصل کو چھوڑ دیتا ہے۔ مگر جیسے ہی دل پر وحدت کا راز کھلتا ہے، کثرت کا یہ سارا سراب ایک خوبصورت حقیقت میں بدل جاتا ہے۔ پھر انسان کو ہر رنگ میں اسی ایک کا جلوہ، ہر آواز میں اسی کا نغمہ اور کائنات کے ہر ذرے میں اسی واحد و یکتا کی تجلی نظر آنے لگتی ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ کثرت دراصل وحدت ہی کا پھیلایا ہوا نور ہے، اور اس ایک سے لو لگائے بغیر کائنات کا کوئی رنگ، کوئی روپ سمجھ نہیں آ سکتا۔ بقول شاعر: جلوۂِ حق چشمِ بینا کے لیے مستور تھا ہر سو دیکھا تو اسی کا نور ہی مفرور تھا #sufism #sufilines #goviral #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight