@ellesbells77: ##foryou #gym

Ellesbells
Ellesbells
Open In TikTok:
Region: US
Monday 01 June 2026 23:50:57 GMT
1716
228
2
5

Music

Download

Comments

william.morris519
William Morris :
🥰🥰🥰
2026-06-01 23:53:05
0
maddimnx
maddiminx :
😍
2026-06-02 12:42:44
0
To see more videos from user @ellesbells77, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

واقعہ غدیر خم : تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی اہم، یادگار اور کثیر السیرت واقعہ ہے۔  یہ واقعہ حجۃ الوداع  (پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے آخری حج)  سے واپسی کے دوران پیش آیا۔  اسلامی تاریخ، عقائد اور فقہ میں اس واقعے کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ: یہ واقعہ  18 ذوالحجہ 10 ہجری (بمطابق مارچ 632ء) کو پیش آیا۔  واقعے کا پس منظر اور تفصیل: حج کے تمام مناسک مکمل کرنے کے بعد جب رسول اللہ ﷺ ہزاروں صحابہ کرام کے کاروان کے ساتھ واپس لوٹ رہے تھے، تو غدیرِ خم کے مقام پر پہنچ کر آپ ﷺ نے اچانک پورا قافلہ روکنے کا حکم دیا۔ جو لوگ آگے نکل چکے تھے انہیں واپس بلایا گیا اور جو پیچھے تھے ان کا انتظار کیا گیا۔ شدید گرمی کا دن تھا۔ اونٹوں کے پالانوں (کاٹھیوں) سے ایک بلند منبر تیار کیا گیا تاکہ سب لوگ رسول اللہ ﷺ کو دیکھ اور سن سکیں۔ آپ ﷺ نے ایک تفصیلی خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں اپنی رحلت کے قریب ہونے کا اشارہ دیا اور امت کو دو گراں قدر چیزیں (کتاب اللہ اور اپنے اہل بیت) مضبوطی سے تھامنے کی وصیت کی۔ اس خطبے کے دوران  آپ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑ کر اتنا بلند کیا کہ سب کو نظر آ جائیں اور وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
واقعہ غدیر خم : تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی اہم، یادگار اور کثیر السیرت واقعہ ہے۔ یہ واقعہ حجۃ الوداع (پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے آخری حج) سے واپسی کے دوران پیش آیا۔ اسلامی تاریخ، عقائد اور فقہ میں اس واقعے کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تاریخ: یہ واقعہ 18 ذوالحجہ 10 ہجری (بمطابق مارچ 632ء) کو پیش آیا۔ واقعے کا پس منظر اور تفصیل: حج کے تمام مناسک مکمل کرنے کے بعد جب رسول اللہ ﷺ ہزاروں صحابہ کرام کے کاروان کے ساتھ واپس لوٹ رہے تھے، تو غدیرِ خم کے مقام پر پہنچ کر آپ ﷺ نے اچانک پورا قافلہ روکنے کا حکم دیا۔ جو لوگ آگے نکل چکے تھے انہیں واپس بلایا گیا اور جو پیچھے تھے ان کا انتظار کیا گیا۔ شدید گرمی کا دن تھا۔ اونٹوں کے پالانوں (کاٹھیوں) سے ایک بلند منبر تیار کیا گیا تاکہ سب لوگ رسول اللہ ﷺ کو دیکھ اور سن سکیں۔ آپ ﷺ نے ایک تفصیلی خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں اپنی رحلت کے قریب ہونے کا اشارہ دیا اور امت کو دو گراں قدر چیزیں (کتاب اللہ اور اپنے اہل بیت) مضبوطی سے تھامنے کی وصیت کی۔ اس خطبے کے دوران آپ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑ کر اتنا بلند کیا کہ سب کو نظر آ جائیں اور وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" (جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے)۔ واقعے کا نتیجہ خطبے کے اختتام پر تمام حاضرین نے حضرت علی کو مبارکباد پیش کی۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے آگے بڑھ کر فرمایا: "اے علی! آپ کو مبارک ہو، اب آپ ہر مومن اور مومنہ کے مولا (محبوب/سرپرست) بن گئے ہیں"

About