@bx.6653:محبت جب دل کو چھو لیتی ہے تو آنکھیں دیکھنے کا ہنر بدل لیتی ہیں پھر محبوب کا چہرہ محض خدوخال نہیں رہتا بلکہ معنی بن جاتا ہے اسی لیے صدیوں کے فاصلے پر کھڑے سقراط نطشے سارتر رومی اور خلیل جبران ایک ہی سچ بولتے دکھائی دیتے ہیں کہ عشق دل میں اتر جائے تو محبوب کا چہرہ خدا کی تخلیق کا سب سے کامل عکس محسوس ہوتا ہے کیونکہ محبت حسن کو پیدا نہیں کرتی محبت حسن کو پہچاننے والی آنکھ عطا کرتی ہے اور یہی آنکھ دنیا کو عام نہیں رہنے دیتی۔