@asim.bashir342: سپاہی مقبول حسین: جرات اور ایثار کی ایک سچی داستانسپاہی مقبول حسین کی زندگی حب الوطنی اور ایثار کا وہ باب ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ ان کی کہانی صرف قید کی نہیں، بلکہ اپنے ساتھیوں کی جان بچانے اور وطن کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کی ہے۔ابتدائی زندگی اور فوجی خدماتسپاہی مقبول حسین کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی (تراڑ کھل) کے ایک بہادر خاندان سے تھا [1]۔ وہ 1940 کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور اپنی جوانی میں ہی پاکستان آرمی کی آزاد کشمیر (AK) رجمنٹ میں شامل ہو گئے [2]۔ ان کا جذبہ اور اپنے وطن کے لیے کچھ کر گزرنے کی تڑپ انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔1965 کی جنگ اور گرفتاری کا واقعہ1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران، سپاہی مقبول حسین محاذِ جنگ پر سینہ تان کر لڑ رہے تھے۔ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، ایک موقع پر جب دشمن کی تعداد زیادہ تھی اور وہ حاوی ہو رہے تھے، تو سپاہی مقبول حسین نے ایک انتہائی بہادرانہ فیصلہ کیا [3]۔ انہوں نے اپنے ساتھی جوانوں سے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں تاکہ ان کی جانیں محفوظ رہ سکیں، جبکہ وہ خود دشمن کا مقابلہ کریں گے تاکہ ساتھیوں کو محفوظ راستہ مل سکے [4]۔ان کے ساتھی انہیں اکیلا چھوڑنے پر تیار نہ تھے کیونکہ فوجی قوانین اور بھائی چارے کے تحت کسی ساتھی کو میدانِ جنگ میں تنہا چھوڑنا ممکن نہ تھا [5]۔ اس صورتحال میں، مقبول حسین نے اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے ایک کھائی یا نیچے کی طرف چھلانگ لگا دی تاکہ وہ دشمن کو الجھائے رکھیں اور ان کے ساتھی بحفاظت نکل سکیں [6]۔ وہ تن تنہا لڑتے رہے یہاں تک کہ شدید زخمی ہو گئے اور بے ہوشی کی حالت میں بھارتی فوج کے ہتھے چڑھ گئے [7]۔40 سالہ قید اور بے پناہ تش