Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@lulumovie214: Katt Williams#comedy #spanish #spain #kattwilliams #kattwilliamscomedy
lulumovie214
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 02 June 2026 11:54:20 GMT
4277
345
8
47
Music
Download
No Watermark .mp4 (
46.81MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
54.87MB
)
Watermark .mp4 (
43.16MB
)
Music .mp3
Comments
Rich :
I love Cat Williams
2026-06-03 03:15:27
1
Tiny :
😂😂😂
2026-06-02 21:35:54
1
Laura 🎶 :
😂😂😂
2026-06-02 19:41:08
1
Danyelle Kathleen :
🤣🤣🤣
2026-06-04 01:21:08
0
debbyt :
😂😂😂
2026-06-03 17:10:30
1
Martinez López :
🤪🤪🤪
2026-06-02 19:34:22
0
JAMEY :
🥰🥰🥰
2026-06-02 13:00:53
0
Danyelle Kathleen :
🔥🔥🔥
2026-06-04 01:21:07
0
To see more videos from user @lulumovie214, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#شعب_الصيني_ماله_حل😂😂
🧠 Saison 287
#ابو_فاضل #عاشوراء_الحسين #العراق #explore #ياحسين
محرم الحرام ۶۱ ہجری کو جب امام حسین علیہ السلام کے تمام انصار و مددگار، بھائی، بھتیجے اور کڑیل جوان بیٹے (شہزادہ علی اکبر) شہید ہو چکے، تو امامِ عالی مقام نے تنہائی کے عالم میں "ھَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَّنْصُرُنَا" (کیا ہے کوئی جو ہماری مدد کرے؟) کی صدا بلند کی۔ روایات کے مطابق، اس استغاثہ کی آواز جب خیموں تک پہنچی تو چھ ماہ کے معصوم علی اصغر نے خود کو جھولے سے گرا دیا۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اگرچہ میں بول نہیں سکتا، لیکن اپنے بابا کی نصرت کے لیے حاضر ہوں۔ 💔 پیاس کی شدت اور میدانِ جنگ کا منظر کربلا میں تین دن سے پانی بند تھا۔ سیدہ ام رباب کی گود سوکھ چکی تھی اور معصوم علی اصغر پیاس کی شدت سے نڈھال تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے معصوم بچے کو اپنی چادر میں چھپایا اور یزیدی فوج کے سامنے لے آئے۔ امام عالی مقام نے فوجِ اعداء سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اے لوگو! اگر تمہاری دشمنی مجھ سے ہے، تو اس معصوم بچے کا کیا قصور ہے؟ دیکھو، پیاس کی وجہ سے اس کے ہونٹ سوکھ چکے ہیں۔ اگر تمہیں مجھ پر یقین نہیں، تو یہ بچہ خود لے جاؤ اور اسے پانی پلا دو۔" 🏹 حرملہ کا تیر اور معصوم کی شہادت امام حسین علیہ السلام کی یہ گفتگو سن کر یزیدی فوج کے لشکر میں ہلچل مچ گئی اور لوگ رونے لگے۔ عمر بن سعد نے جب یہ منظر دیکھا تو اس نے اپنے سب سے ماہر تیر انداز حرملہ بن کاہل اسدی کو حکم دیا: "حسین کے کلام کو قطع کرو (یعنی بات ختم کرو)۔" حرملہ نے تین بھال والا زہر آلود تیر (جو عام طور پر اونٹوں یا جنگلی جانوروں کا شکار کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا) کمان میں جوڑا اور معصوم علی اصغر کی ننھی سی گردن کو نشانہ بنایا۔ تیر لگتے ہی معصوم بچے نے اپنے بابا کے ہاتھوں پر تڑپ کر جان دے دی اور مسکرا دیے۔ ✨ شہادت کے بعد کا منظر امام حسین علیہ السلام نے معصوم کا خون اپنے ہاتھوں میں لیا اور آسمان کی طرف اچھالنا چاہا، لیکن غیب سے آواز آئی: "حسین! اس خون کو زمین پر نہ گرنے دینا، ورنہ زمین پر کبھی سبزہ نہ اگے گا، اور نہ ہی آسمان کی طرف پھینکنا ورنہ آسمان سے خون کی بارش ہوگی۔" امام نے وہ خون اپنے چہرے اور محاسنِ مبارک پر مل لیا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنی تلوار سے خیموں کے پیچھے ایک چھوٹی سی قبر کھودی اور اپنے اس ننھے مجاہد کو خود سپردِ خاک کیا۔ علی_اصغر #کربلا #امام_حسین #شہید_کربلا #باب_الحوائج #اصغر_بے_شیر #
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy